جمعه,  13 فروری 2026ء
نور پور شاہاں ماڈل ویلج: عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے افسران کی سخت سرزنش

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس انعام امین منہاس نے نور پور شاہاں ماڈل ویلج سے متعلق عدالتی فیصلے کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی کارروائی کے دوران سی ڈی اے افسران اور ان کے وکلاء کو سخت الفاظ میں سرزنش کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ رِٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 کا فیصلہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس پر ہر صورت من و عن عملدرآمد کیا جانا لازم ہے۔

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی، جہاں ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کامران بخت عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی محمد علی رندھاوا مصروفیت کے باعث پیش نہ ہو سکے۔

سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخر ایسی کیا جلدی ہے کہ گھروں کو تیزی سے مسمار کیا جا رہا ہے؟ عدالت نے کارروائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اقدامات قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے اپنی جگہ موجود ہیں اور ان پر عملدرآمد ہر صورت ہوگا، اس کے باوجود لوگوں کے گھروں کو مسمار کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

صحافیوں پر حملہ کیس: عدالت کی پولیس پر سرزنش، ملزم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ برقرار

عدالت نے 26 جون 2025 کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جسٹس انعام امین منہاس نے سخت لہجے میں کہا کہ شاید افسران کو توہینِ عدالت کی سنگینی کا اندازہ نہیں، یہ ایسا معاملہ ہے جو سرکاری افسر کے پورے مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔

عدالت نے ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ کو توہینِ عدالت کی درخواست پر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ نور پور شاہاں ماڈل ویلج سے متعلق عدالتی فیصلے کی مبینہ خلاف ورزی پر مقامی شہری تنویر حسین عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے 10 فروری 2026 کو چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، ڈاکٹر انعم فاطمہ اور کامران بخت کے خلاف شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

مزید خبریں