جمعرات,  05 فروری 2026ء
انسٹرومنٹ آف ایکسیشن کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں، سید فخر امام
انسٹرومنٹ آف ایکسیشن کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں، سید فخر امام

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر سابق چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک نہایت اہم قانونی دستاویز، انسٹرومنٹ آف ایکسیشن، آج تک دنیا کے کسی بھی مستند ریکارڈ میں موجود نہیں ہے اور اسے کبھی باضابطہ طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید فخر امام نے کہا کہ جس دستاویز کے ذریعے مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے جموں و کشمیر کے بھارت سے الحاق کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اس کا کوئی مستند ثبوت دنیا کے کسی آرکائیو میں دستیاب نہیں۔ ان کے مطابق لندن کی انڈیا آفس لائبریری اور بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ریکارڈز کا جائزہ لینے والے محققین کو بھی اس دستاویز کی کوئی اصل اور تصدیق شدہ نقل نہیں ملی۔

غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کا دن، ملک بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بنیادی قانونی خامی ہے جسے ابتدا ہی میں چیلنج کیا جانا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے پاکستان نے بھارت کے دعوے کو بغیر ثبوت مان لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برصغیر کی 562 ریاستوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں، مگر کشمیر کے معاملے میں انسٹرومنٹ آف ایکسیشن کی عدم موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک غیر قانونی عمل کو بعد ازاں قانونی رنگ دیا گیا۔

سید فخر امام نے کہا کہ اسی بنیاد پر بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا، جہاں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے قراردادیں منظور ہوئیں، لیکن آج تک ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے جوناگڑھ اور حیدرآباد دکن پر بھی زبردستی قبضہ کیا، حالانکہ وہاں کے حکمرانوں کے فیصلے پاکستان یا غیر جانبداری کے حق میں تھے، مگر عالمی برادری نے ان اقدامات کی مؤثر مذمت نہیں کی۔

ریڈکلف ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی علاقے گورداسپور اور فیروزپور کو غلط طور پر بھارت کو دیا گیا، جس کے باعث بھارت کو کشمیر تک زمینی راستہ ملا۔ ان کے مطابق اگر گورداسپور پاکستان کو دیا جاتا تو کشمیر قدرتی طور پر پاکستان کا حصہ بن جاتا۔

انہوں نے کہا کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان نے ستلج، بیاس اور راوی جیسے تین دریا بھارت کے حوالے کیے، جو عالمی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہے۔ آج بھارت اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے کی پرواہ نہیں کرتے۔

سید فخر امام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدہ نوٹس لے اور اس کے خلاف قراردادیں منظور کرے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایک دن کشمیری عوام اپنے جائز اور قانونی حقوق حاصل کر کے رہیں گے۔

مزید خبریں