بدھ,  04 فروری 2026ء
بلوچستان کے سرکاری ملازمین کو ڈی آر اے اور مراعات دینے کا مطالبہ، گرینڈ الائنس کا 12 فروری تک الٹی میٹم

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اگیگا پاکستان کے چیٖف کوآرڈینیٹر رحمان علی باجوہ نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اپنی بنائی گئی کمیٹی کے سفارشات پر عملدرآمدکرتے ہوئے بلوچستان کے سرکاری ملازمین کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس (ڈی آر اے) و دیگر مراعات دی جائیں،اپنےجائز حق کیلئے آواز اٹھانے والے سرکاری ملازمیں کیخلاف ظالمانہ سلوک بند کیا جائے12تاریخ تک گرینڈ الائنس کے تمام حل طلب مسائل کو باقاعدہ طور پر حل نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، انہوں نے ان خیالات کا اظہار چالیس سے زائد ملازمین تنظیموں پر مشتمل بلوچستان گرینڈ الائنس کےکوآرڈینیٹرپروفیسر آغا زاہد و دیگر رہنماؤںکے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان جہاں امن و امان، کرپشن، گورنس ، انتظامی و دیگر گھمبیر مسائل کا شکار ہے وہاں تمام محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین بھی بنیادی اور دیرینہ مسائل سے دوچار ہیں،بلوچستان کےسرکاری ملازمین کی تنخواہیں ملک کے تمام صوبوں اور وفاق کے ملازمین سے کم ہیں حالانکہ وفاق اپنے ملازمین کے اس آئینی مطالبے کو تسلیم کر چکا ہے کہ مختلف محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں فرق ختم ہو جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں اب تک وفاقی ملازمین ستر (70) فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس (ڈی آر اے) لے کے چکے ہیں لیکن بلوچستان میں گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام ڈھائی لاکھ ملازمین گذشتہ آٹھ ماہ سے آئین کے آرٹیکل 25 اور 38 کے تحت تسلیم شدہ اس حق کے لئے سراپائے احتجاج ہیں اور حکومت کے ناروا ظلم و ستم کا شکار ہیں، اس سلسلے میں حکومت بلوچستان نے دوبار وزرا پر مشتمل کمیٹیاں بنائیں، جنہوں نے ہمارے ساتھ پرمشتر کہ سفارشات مرتب کر کے دستخط کئے۔ لیکن دونوں بار ملازمین کے ساتھ دھو کہ کیا گیا اور حکومت نے اپنے وعدے وفا نہیں کئے، گذشتہ آٹھ ماہ سے 40 فیصد ڈی آر اے کے لئے احتجاج کرنے والے ملازمین کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے حکومت احتجاجی ملازمین کے بچوں اور گھر والوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ پر امن احتجاج کرنے والے ملازمین پر ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں ، ان پر تھری ایم پی او لگایا جارہا ہے ، ہمارے احتجاجی مظاہروں ، ریلیوں اور جلسوں پر بدترین لاٹھی چارج، شیلنگ اور تشدد کیا جارہا ہے، احتجاجی ملازمین چوک چوراہوں اور روڈوں پر گھسیٹے جاتے ہیں، بلوچستان کے روایات کے صریحا بر خلاف ہمارے خواتین ملازمین کی بے تو قیری و تذلیل کی جاتی ہے ، ہمارے سینکڑوں ملازمین زدو کوب کر کے گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ اس وقت ہمارے چار سو سے زائد ملازمین جیلوں میں مقید ہیں۔ بلوچستان حکومت اپنی بنائی گئی کمیٹی کے سفارشات پر عملدرآمد کے مطالبے پر بلوچستان کے لاکھوں ملازمین کودہشت گردوں کی طرح ڈیل کر رہی ہے،ہم نے 40 فیصد ڈی آراے سمیت اپنا 11 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کو جمع کیا ہے جن پر حکومتی کمیٹی کے ساتھ مشتر کہ سفارشات بھی طے ہو گئی ہیں لیکن ان سفارشات پر عملدرآمد کرنے کی بجائے اس میں روڑے انکار ہے ہیں۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے عہدیداروں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری ، وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف چئیر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداریسے اپیل کی کہ بلوچستان کے ڈھائی لاکھ ملازمین کے جائز و آئینی مطالبات حل کرنے میں اپنا کر درا ادا کریں اور بلوچستان حکومت کو ملازمین کو دہشت گردوں کی طرح ڈیل کرنے سےروکیں، بلوچستان گرینڈ الائنس کے عہدیداروں نے واضح کیا کہ اگر 12 فروری تک گرینڈ الائنس کے تمام حل طلب مسائل کو باقاعدہ طور پر حل نہ ہوئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید خبریں