اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان قبائل موومنٹ کی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی قیادت جنرل سیکرٹری پاکستان قبائل موومنٹ اور مرکزی جنرل سیکرٹری دفاع پاکستان کونسل مولانا اسداللہ حقانی نے کی۔ اس موقع پر وائس چیئرمین حاجی عجب خان سمیت تنظیم کی مرکزی و صوبائی قیادت کی بڑی تعداد شریک تھی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسداللہ حقانی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی کمزور خارجہ پالیسیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان 2400 کلومیٹر طویل سرحد پر آباد پشتون اور دیگر قبائل شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے قبائل کے درمیان نسب، روایات اور ایمان کا مضبوط رشتہ ہے جسے کوئی عالمی طاقت ختم نہیں کر سکتی، اور معرکۂ حق (بنیان مرصوص) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قبائل پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزین آپریشن کے نام پر بلوچ، پشتون، ہزارہ، سلیمان خیل، وزیر، مسعود، دوتانی، گلگت بلتستان، مہمند، باجوڑ، جنوبی و شمالی وزیرستان، بلوچستان، پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر کے قبائل کو بلاجواز تنگ کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد اور پنجاب میں افغان مہاجرین کو ہولڈنگ کیمپس میں رکھا گیا ہے جہاں انسانی حالات نہایت خراب ہیں، جس کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
مولانا اسداللہ حقانی نے نشاندہی کی کہ کئی قبائل کے شناختی کارڈز کی ویری فکیشن طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے، خصوصاً سلیمان خیل قبائل جو ضلع ژوب اور تحصیل سمبازہ میں زمینی تنازعات کے باعث متاثر ہو کر مہینوں سے کیمپس میں محصور ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ طرزِ عمل انسانی ہمدردی ہے یا انسانیت کی تذلیل؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نادرا اور متعلقہ بورڈز فوری طور پر شناختی کارڈز کے معاملات نمٹائیں تاکہ متاثرہ افراد باعزت روزگار کی طرف واپس جا سکیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو واضح ہدایات دی جائیں کہ زیرِ ویری فکیشن پاکستانی قبائل کو رہا کیا جائے جبکہ غیر ملکی افغان باشندوں کو قانون کے مطابق ڈی پورٹ کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں خیبر کی تحصیل تیراہ میں حالیہ آپریشن پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مولانا اسداللہ حقانی نے کہا کہ شدید سردی میں قبائلی عوام کی جبری بے دخلی خیبرپختونخوا حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس کی ذمہ داری مقتدر حلقوں پر ڈال کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان قبائل موومنٹ ٹارگٹڈ آپریشن کے خلاف نہیں، تاہم اس کی آڑ میں عوام اور قبائل کو ریاست کے خلاف اکسانا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کے تناظر میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا بانیٔ پاکستان کے نظریات کے منافی ہے۔ انہوں نے 1950 میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے امریکی دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “Our soul is not for sale” پاکستان کی اصولی اور نظریاتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
مولانا اسداللہ حقانی نے سی پیک فیز ٹو کو پاکستان، چین، وسطی ایشیا اور امتِ مسلمہ کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکمران مخلص ہوتے تو یہ منصوبہ بہت پہلے مکمل ہو چکا ہوتا۔
آخر میں انہوں نے گل پلازہ سانحہ کراچی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پورے پاکستان کا سانحہ قرار دیا اور کہا کہ سندھ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے شہداء کے لیے دعا اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔











