منگل,  27 جنوری 2026ء
سحر کامران کا خیبر پختونخوا میں جبری نقل مکانی، دہشت گردی اور فلسطین پالیسی پر حکومت سے شفافیت اور تعاون کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)  پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی آپریشنز کے باعث ہزاروں خاندانوں کی جبری نقل مکانی، دہشت گردی کی نئی لہر اور خارجہ پالیسی سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے، تاہم اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ انہیں سیکیورٹی آپریشنز کے فیصلوں میں نظرانداز کیا گیا، جبکہ وفاقی نمائندے صوبے کے بجٹ میں متاثرین کے لیے مختص فنڈز کو شمولیت کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ متاثرہ آبادی کی نقل مکانی کی اصل وجہ شدید موسمی حالات ہیں یا خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے فوجی آپریشنز۔ سحر کامران نے شفافیت اور جوابدہی کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک قبائلی کمیٹی کے گمشدہ سربراہ کا ذکر کیا جو ان آپریشنز کے مینڈیٹ سے متعلق اہم معلومات رکھتے ہیں۔

دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے حاصل کیا گیا امن اب پالیسی ناکامیوں کے باعث خطرے میں پڑ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا، جس سے سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں دونوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جب شدید موسم اور لاجسٹک مسائل بھی درپیش ہوں۔

گل پلازہ سانحہ: پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے، سحر کامران

خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے زور دیا کہ پاکستان کو فلسطین کے مسئلے پر سفارتی امن عمل میں فعال کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مؤثر آواز بن سکتا ہے، جو بانیانِ پاکستان کے اصولوں اور ملک کی دیرینہ خارجہ پالیسی کے عین مطابق ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی مکالمے سے پیچھے ہٹنے کی صورت میں پاکستان اپنا اثر و رسوخ کھو دے گا، جبکہ مسلسل سفارتی شمولیت ہی فلسطینی عوام کے مفادات کے تحفظ کی واحد مؤثر حکمتِ عملی ہے۔

آخر میں سحر کامران نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متاثرین کی فوری مالی امداد اور بحالی کے لیے مشترکہ اقدامات کریں تاکہ خطے میں استحکام اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

مزید خبریں