اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا سنائے جانے کے خلاف احتجاج میں آج سے تین روزہ عدالتوں بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد بار کونسل، ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار نے بھی وکلاء کو ہڑتال پر جانے کی ہدایت کی ہے اور وکلاء صرف ارجنٹ کیسوں میں پیش ہو رہے ہیں۔
بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی، جس کے بعد وکلاء نے کینٹین میں موجود پولیس اہلکاروں کو باہر نکال دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑیاں بھی عدالت کے باہر تعینات ہیں۔
وکلاء نے سیشن جج ایسٹ کی عدالت کے باہر احتجاج کیا، جس کی قیادت صدر بار ایسوسی ایشن نعیم گجر نے کی۔ اس موقع پر وکلاء نے احاطہ کچہری میں ریلی نکالی اور مختلف بینرز، جن پر “انصاف دو” کے نعرے درج تھے، اٹھائے۔
فیڈرل ملازمین کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج، سیکریٹریٹ کے گیٹ بند، مذاکرات جاری
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی ڈاکٹر، بابر اعوان سمیت دیگر وکلاء بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پہلے جج سڑکوں پر آئے، اب وکلاء سڑکوں پر نکل آئے ہیں، وکلاء کے خلاف ریاست گردی جاری ہے اور پولیس گردی سوسائٹی کے لیے نقصان دہ ہے۔
احتجاج کے اختتام پر وکلاء ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس پہنچے اور وہاں سے ریلی ختم کر دی گئی۔
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔











