اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی زرعی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر مقامی فصل کی کٹائی سے قبل ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں جن سے اجناس کی درآمد کا جواز بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی گزشتہ دو برسوں سے گندم کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور اب مزید نقصان برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
سحر کامران نے وزیر سے سوال کیا کہ سال 2024 اور 2025 کے دوران کتنی چینی درآمد کی گئی، کن ممالک سے کی گئی اور اس پر ٹیکس میں کتنی چھوٹ دی گئی، تاہم ان کے مطابق وزیر اس حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرنے اور کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی تشکیل
انہوں نے کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے حکومتی دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کھاد کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جس کا براہِ راست نقصان کسانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ کھاد بنانے والی کمپنیاں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے اربوں روپے منافع کما رہی ہیں، مگر کسانوں کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور کسان دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔











