پیر,  12 جنوری 2026ء
پی آئی اے ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری!

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے ملازمین کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔

معروف بزنس مین اور سرمایہ کار عارف حبیب نے اعلان کیا ہے کہ قومی ایئر لائن میں ایک سال تک کسی بھی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا۔

ایک انٹرویو میں عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کے مسلسل خسارے کی سب سے بڑی وجہ قرض پر قرض اور بھاری سود کی ادائیگیاں تھیں۔ ان کے مطابق ایک وقت میں پی آئی اے پر تقریباً 800 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہو چکا تھا، جو حکومتی ضمانت کے تحت مسلسل بڑھتا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی پہلی بولی مینجمنٹ سسٹم اور معاشی حالات کی وجہ سے ناکام ہوئی، تاہم اب شرح سود میں کمی، روپے کی قدر میں بہتری اور تیل کی قیمتوں میں کنٹرول کے باعث نجکاری کا عمل کامیاب رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر مینجمنٹ اسٹرکچر اور معاشی استحکام نے اس بار پی آئی اے کی بولی کو کامیاب بنایا۔

عارف حبیب کے مطابق اس وقت پی آئی اے کے 34 طیاروں میں سے صرف 17 آپریشنل ہیں، جبکہ مستقبل میں ایئر لائن کا فلیٹ بڑھا کر 38 طیاروں تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے بیشتر اثاثے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کر دیے گئے ہیں اور موجودہ خسارے کو ایک سال تک برداشت کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے میں ایک سال کے دوران کسی بھی ملازم کو برطرف نہیں کیا جائے گا، جبکہ کام کرنے والے اور اہل افراد کو میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق بزنس پلان میں کارگو سسٹم کی بہتری کے لیے خصوصی حکمتِ عملی شامل ہے، جس سے آمدن میں اضافہ متوقع ہے۔

عارف حبیب نے بتایا کہ پی آئی اے میں فوجی فرٹیلائزر، عارف حبیب گروپ اور فاطمہ فرٹیلائزر کے 25، 25 فیصد شیئرز ہیں، جبکہ باقی 25 فیصد حصص دیگر کنسورشیم ممبرز کے پاس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایئر لائن میں مستقبل میں ایک اور پارٹنر کو شامل کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق بڑی خبر سامنے آگئی

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو 70 ارب روپے میں بھی چلایا جا سکتا تھا، تاہم بہتری اور استحکام کے لیے 125 ارب روپے فراہم کیے گئے، جنہیں نئے انجنوں کی خریداری، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر آپریشنل اخراجات پر خرچ کیا جائے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کی پروازوں میں سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عارف حبیب کے مطابق یہی عوامل ہیں جن کی بنیاد پر وہ پُراعتماد ہیں کہ ایک سال کے اندر قومی ایئر لائن کو منافع بخش ادارہ بنا دیا جائے گا۔

مزید برآں انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے پر اس وقت مجموعی طور پر 181 ارب روپے کے واجبات ہیں۔ مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ ایوی ایشن انڈسٹری کے بعد بلو اکانومی میں سرمایہ کاری اگلا قدم ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کے خسارے کی بڑی وجہ افسران کے ذاتی مفادات ہوتے ہیں، جبکہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ پالیسی بنانا ہے، اصل کاروبار پرائیویٹ سیکٹر کو کرنا چاہیے۔

مزید خبریں