اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے صوبہ ہزارہ بنانے کی مخالفت پر خطہ ہزارہ میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جس پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں اور مقامی عوام نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خطے کے عوام کے جائز حق سے انکار قرار دیا ہے۔
مقامی شہریوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبہ ہزارہ کا قیام ہمارے بچوں کے مستقبل، بہتر طرزِ حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “ایک ہی نعرہ، صوبہ ہزارہ، صوبہ ہزارہ” اور مزید کہا کہ “صوبہ ہے تو ہم ہیں، اگر صوبہ نہیں تو مسائل اسی طرح برقرار رہیں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ہزارہ کے عوام کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
مزید پڑھیں: صوبہ خیبرپختونخواہ کا نام تبدیل کیا گیا تو ذمہ دارایمل ولی خان ہونگے، صوبہ ہزارہ تحریک
مقامی عوام نے ایمل ولی خان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شناخت ہر قوم اور خطے کا بنیادی حق ہے۔ جس طرح ملک کے دیگر خطوں اور قومیتوں کو ان کی شناخت اور صوبائی حیثیت تسلیم کی گئی ہے، اسی طرح ہزارہ کے عوام بھی اپنے الگ تشخص اور حقوق کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ عوام کا کہنا تھا کہ ہزارہ واحد خطہ ہے جس کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی پہچان منفرد ہے، مگر اس کے باوجود اسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین اور عوامی نمائندوں کا کہنا تھا کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ بہتر انتظامی نظام، مقامی وسائل پر مقامی اختیار اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی قیادت اس حساس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی امنگوں کا احترام کرے۔ مقامی قیادت نے خبردار کیا کہ اگر صوبہ ہزارہ کے مطالبے کو مزید نظرانداز کیا گیا تو عوامی سطح پر احتجاجی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کیا جائے گا۔











