کراچی(عرفان حیدر) بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے پر ایم کیو ایم پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید ندیم منصور کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی کرنا درست فیصلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام دراصل ایم کیو ایم پاکستان کے نظریے کا بنیادی حصہ ہے، کیونکہ پارٹی چاہتی ہے کہ عوام کو نچلی سطح پر ان کے مسائل کا حل ان کی دہلیز پر فراہم کیا جائے۔ اگر حکومت انتخابات کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو بہتر ہے کہ اس منصوبے کو پرائیویٹائز کر دیا جائے۔
سید ندیم منصور کا کہنا تھا کہ ملک میں ابھی مزید صوبے اور اضلاع بھی بننے ہیں، تاہم اس کے باوجود بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب الیکشن شیڈول جاری ہو چکا تھا، امیدواروں نے فیسیں جمع کرا دی تھیں، جن کی مد میں کم از کم 74 کروڑ روپے جمع ہو چکے تھے، حلقہ بندیاں مکمل تھیں اور ریٹرننگ افسران بھی تعینات ہو چکے تھے تو پھر انتخابات کو ملتوی کرنے کی کیا وجہ تھی۔
مزید پڑھیں: حلقہ NA-47 میں ایم کیو ایم پاکستان کی تاریخی پیش رفت، تین یونین کمیٹیوں میں امیدوار میدان میں
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کا ملتوی ہونا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے کیونکہ یہ عوام کا مینڈیٹ ہے، جو جلد از جلد عوام کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں تو نئے امیدواروں کے لیے نئے کاغذات نامزدگی طلب نہ کیے جائیں، بلکہ نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ امیدوار بھی انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں جو پہلے فیسیں جمع نہیں کرا سکے تھے۔











