اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان ایک بار پھر شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے جس سے زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گندم، چاول، کپاس، سبزیاں اور لائیو اسٹاک جیسی بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے ملک میں غذائی بحران جنم لینے کا خدشہ ہے۔
خصوصا پنجاب اس وقت دریائے ستلج، چناب اور راوی میں آنے والے شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث وسیع زرعی علاقے زیرِ آب آچکے ہیں۔ ان علاقوں میں گندم، کپاس، چاول، سبزیاں اور چارہ جیسی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ مال مویشیوں کی ہلاکتوں سے کسان شدید معاشی نقصان سے دوچار ہیں۔
دریائے ستلج کے ہیڈ اسلام پر بڑھتے سیلابی ریلے نے قریبی بستیاں اور ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ کر دیں۔ کپاس، دھان، تِل، مکئی اور چارہ کی بربادی نے کسانوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر ایک علاقہ اس قدر متاثر ہوا ہے تو باقی زرعی علاقوں کی تباہی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، جہاں لاکھوں ایکڑ زمین زیرِ آب آکر غذائی بحران کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے مختلف مقامات پر ہیڈ ورکس پر شگاف لگا کر پانی کا بہاؤ موڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ مزید زرعی زمین کو بچایا جاسکے۔ لاکھوں کیوسک سیلابی پانی اگلے مرحلے میں سندھ میں داخل ہوگا جہاں مختلف زرعی اضلاع میں گندم، چاول اور کپاس جیسی بڑی فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
کسان اتحاد کا گندم قحط کا انتباہ
چیئرمین پاکستان کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ اس وقت تقریباً 30 سے 35 ہزار گاؤں سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں جبکہ 20 سے 25 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
خالد حسین باٹھ کے مطابق سب سے بڑا بحران گندم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت ہے، جو صرف تین دنوں میں 2100 روپے سے بڑھ کر 3500 روپے فی من تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک میں گندم کا قحط پڑ سکتا ہے اور روٹی کی قیمت 30 سے 40 روپے تک جا سکتی ہے۔
اشیائے خورونوش مہنگی ہونے کا خدشہ
رپورٹس کے مطابق آلو، پیاز، ٹماٹر، دودھ اور انڈے جیسی اشیاء سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔ کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث ٹیکسٹائل صنعت دباؤ میں آئے گی اور کپاس کی درآمدات بڑھیں گی، جس سے ملک کا درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر مزید کمزور ہوں گے۔
ایک نجی اخبار کے مطابق زرعی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے باعث کھاد، پٹرولیم، گاڑیوں اور تعمیراتی شعبے کی طلب کم ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فصلوں کا نقصان زیادہ ہوا تو نہ صرف مہنگائی دوہرے ہندسے میں جا سکتی ہے بلکہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ پاکستان کے تجارتی توازن کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ صورتحال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے مشابہت رکھتی ہے، جب کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں ماہانہ اوسطاً 3 سے 5 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اب بھی یہی خدشہ ہے کہ ستمبر سے قیمتوں میں تیزی آ سکتی ہے۔
2022 کے سیلاب جیسی صورتحال؟
جون تا اگست 2022 کے دوران آنے والے تباہ کن سیلاب نے پاکستان میں زراعت اور خوراک کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس آفت سے 44 لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ زیرِ آب آگیا تھا جس میں 8 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے اور لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی متاثر ہوئی۔
اس بڑے پیمانے کی تباہی کے نتیجے میں ملک بھر میں خوراک کی شدید کمی اور غذائی عدم تحفظ پیدا ہوا۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں لاکھوں افراد صاف پانی اور مناسب خوراک تک رسائی سے محروم ہوگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں تقریباً 15 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوئے، جب کہ نو لاکھ سے زائد افراد نے صوبہ سندھ میں خوراک کی کمی اور بڑے پیمانے پر غذائی قلت کا سامنا کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جس طرح 2022 میں غذائی اور معاشی بحران کا سامنا رہا، 2025 میں بھی معیشت پہلے ہی کمزور ہے اور عوام مہنگائی کے دباؤ میں ہیں۔ ایسے میں آئندہ دنوں میں مزید بارشوں اور سیلاب کے باعث مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔