اسلام آباد (محمد زاہد خان) پروفیسر عثمان قاضی اور میر خان لہڑی کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والی معلومات پر حساس اداروں کا مربوط انٹیلیجنس آپریشن کا آغاز تفصیلات کے مطابق پروفیسر عثمان قاضی اور میر خان لہڑی کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر حساس اداروں نے ایک مربوط انٹیلیجنس آپریشن کا آغاز کیا جس نے بلوچستان میں بی ایل اے کے زیرِ زمین نیٹ ورک کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے خاص طور پر وہ نوجوان جنہیں اب تک “طلبہ” یا “جبری طور پر لاپتہ افراد” کے طور پر پیش کیا جاتا رہا دراصل وہی افراد بی ایل اے کی مجید بریگیڈ سے وابستہ خودکش حملہ آور ثابت ہوئے ان کے قبضے سے برآمد ہونے والے سیٹلائٹ فونز اور تھُرایا کال ریکارڈز نے بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے ان کے براہِ راست رابطے کو بے نقاب کر دیا۔ ان میں سے دہشتگرد دو بیک ٹو بیک خودکش دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جنہیں بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا حیران کن طور پر یہی نوجوان بعد میں BYC نامی تنظیم کے “جبری گمشدگی” پوسٹرز میں انسانی حقوق کے مظلوم چہروں کے طور پر نمودار ہوئے گویا ایک ڈیجیٹل کلب دہشتگردی کو سیاسی مظلومیت کے پردے میں چھپا رہا تھا۔ آپریشن کے دوران ملنے والی USBs، KML فائلز، اور Sat IP لاگز نے نہ صرف فنڈنگ اور تربیت کے ذرائع واضح کیے بلکہ پورے چین اینڈ کمانڈ کا سراغ بھی فراہم کیا اس آپریشن کے بعد ریاست پاکستان نے ایک بار پھر واضح پیغام دیا ہے کہ ریاستی لاء انفورسمنٹ اور انٹیلیجینس ایجنسیز نے بلوچستان میں دہشتگردی کے اس نیٹ ورک کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور بی ایل اے اور بھارتی سرکاری دہشت گرد خفیہ ایجنسی را کا گٹھ جوڑ مزید کسی پردے میں ڈکھکا چھپا نہیں رہا۔
