اسلام آباد (محمد زاہد خان) فیک شناختی کارڈ رکھنے والے تمام افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ آپریشن بغیر کسی دباؤ کے تیز کرنے کا حکم تفصیلات کے مطابق ایسے تمام افغان مہاجرین جنہوں نے جعل سازی ساز باز یا رشوت دے دلا کر بوگس شناختی کارڈز حاصل کر رکھے ہیں ان کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے سخت اور حتمی پیغام جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افغان مہاجرین کا یہ خیال تھا کہ وہ پاکستان میں کسی بھی دباؤ کے بغیر رہ سکتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی لیکن متعلقہ اداروں نے ان کے تمام تر کوائف اور ریکارڈ محفوظ کر لئے ہیں۔ اس ڈیٹا میں وہ بااثر افراد بھی شامل ہیں جو بڑے بڑے مگرمچھ کہلاتے ہیں اور اپنی تصاویر مختلف سیاسی شخصیات، ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور مختلف افسران کے ساتھ بنا کر تعلقات کی بنیاد پر چھپے ہوئے ہیں حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ان سب کے خلاف یکم ستمبر 2025 سے ٹھوس اور عملی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں نہ تو کسی کے پیسے کام آئیں گے اور نہ ہی کوئی سیاسی یا ذاتی تعلقات۔ ایسے تمام افغان مہاجرین کو انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ عزت و احترام کے ساتھ اپنے بوگس شناختی کارڈز قریبی نادرا دفاتر میں رضاکارانہ طور پر جمع کروا دیں، بصورت دیگر انہیں زبردستی گرفتار کرکے ملک بدر کر دیا جائے گا یہ معاملہ زیادہ تر پشاور اور کوئٹہ میں پھیلا ہوا جس میں بیشتر افراد نے کسی اور شخص کو اپنا والد یا والدہ ظاہر کرکے بوگس شناختی کارڈز بنا رکھے ہیں عنقریب اس کا مکمل صفایا ہونے والا ہے حکومتی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس بار کسی کے لئے کوئی رعایت یا گنجائش باقی نہیں رکھی جائے گی۔ تمام غیرقانونی طور پر شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کو اپنے اپنے آبائی وطن ڈیپورٹ ہونا ہوگا۔
