جمعه,  29  اگست 2025ء
ایف آئی اے کا ملک کی سکیورٹی اداروں کے اندر خفیہ کی جاسوسی کا اسکینڈل بے نقاب
ایف آئی اے کا ملک کی سکیورٹی اداروں کے اندر خفیہ کی جاسوسی کا اسکینڈل بے نقاب

اسلام آباد (محمد زاہد خان) ایف آئی اے کا ملک کی سکیورٹی اداروں کے اندر خفیہ کی جاسوسی کا اسکینڈل بے نقاب تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے تیار کی گئی ایک خفیہ انکوائری رپورٹ نے ملکی اداروں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوائی گئی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے سابق ڈائریکٹر اور موجودہ ڈی آئی جی لیگل خیبرپختونخوا پولیس ہمایون مسعود سندھو کے گھر سے حساس نوعیت کی خفیہ فائلیں برآمد ہوئیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے محمد جعفر خان کی زیر نگرانی ہونے والی انکوائری کے مطابق ان فائلز میں امریکہ کی ایف بی آئی کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات، اتحادی ممالک سے موصولہ انٹیلی جنس لیڈز، اور بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کے سلیپر سیلز کی تفصیلات شامل تھیں۔ ان فائلوں میں مقامی و غیرملکی دہشت گردوں کے بارے میں وہ خفیہ منصوبے درج تھے جنہیں گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں ہونے والی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہمایون مسعود سندھو نے بطور ڈائریکٹر کاؤنٹر ٹیررازم ونگ تعیناتی کے دوران یہ حساس معلومات بھارتی خفیہ ایجنسی اور دیگر غیرملکی عناصر کو فروخت کیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان کے اہل خانہ کینیڈا کی مستقل رہائش (PR) حاصل کر چکے ہیں جبکہ ان کی اپنی کینیڈا میں امیگریشن کی درخواست زیر غور ہے، جس نے ان کی وفاداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حیران کن طور پر جب یہ رپورٹ وفاقی سیکرٹری داخلہ کے دفتر پہنچی تو اسے اصولی طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوانا چاہیئے تھا، مگر وزارت داخلہ کے چند بااثر افسران نے مبینہ طور پر ہمایون مسعود سندھو کے ساتھ ملی بھگت کرکے یہ رپورٹ دبادی یا ممکنہ طور پر غائب کردی۔ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد جعفر خان نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی:

“ہم نے جو ثبوت برآمد کیے، اس پر رپورٹ تیار کرکے وزارت داخلہ کو بھجوا دی۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا ایکشن لیتے ہیں۔ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔”
یہ انکشاف ایک بار پھر وزارت داخلہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے کہ اس سے پہلے بھی متعدد بار خفیہ فائلیں اور حساس انکوائری رپورٹس غائب کی جا چکی ہیں لیکن آج تک کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔

مزید خبریں