بدھ,  26 فروری 2025ء
مغربی بالادستی نے غیر مغربی حقائق کو مسخ کر کے تقویت حاصل کی ہے؛ اپنا تسلط قائم رکھا ہے

ترکیہ اور اُردن کے مفکرین کا اصل تاریخی حقائق سامنے لانے پر زور

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) مغرب میں طویل عرصے سے پائ جانے والی ‘مغرب بمقابلہ باقی دنیا’ کی زہنیت نے ہمیشہ تاریخ، سیاست اور ثقافت کو ایسے انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو اس کے اپنے تمام اقدامات کو درست ثابت کر کے اس کے تسلط کو مزید مستحکم کرسکے، چاہے اس کے لیے غیر مغربی حقائق کو کتنا ہی توڑموڑ کر، مسخ کر کے پیش کرنا پڑے۔ یہ منتخب شدہ تاریخ نویسی فکری اور سیاسی بالادستی کے ایک ایسے سلسلے کو دوام دیتی ہے جس میں بیانیے مغربی مفادات کا حصول کرنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے کو روکنے کے لیے ایسے مغربی بیانیوں کو توڑنا اور متوازن مکالموں کے لیے تاریخی حقائق کو بحال کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار ترکیہ کی برسا اولوداغ یونیورسٹی کے شعبہِ فلسفہ و مذہبی مطالعہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر بیلنٹ سینائے اور استنبول مائیس یونیورسٹی کے اسسٹننٹ پروفیسر ڈاکٹر منجد ابو بکر نے ‘تاریخ نگاری اور اجتماعی شناخت کی تشکیل ‘ کے عنوان سے انسٹیٹیوٹ اف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) میں منعقد ہونے والے ایک سیشن کے دوران کیا۔ اپنے خطاب میں پروفیسر بیلنٹ سینائے نے جیو پولیٹکس سے تھیو پولیٹکس کی طرف عالمی تبدیلی پر روشنی ڈالی، اور اسے مسیحی حکمرانی کے زیرِ تسلط ڈیوائن خودمختاری قائم کرنے کی جڑ قرار دیا۔انہوں نے نوٹ کیا کہ اس کے برعکس اسلام ایک تھیو پولیٹیکل ویژن کی ترجمانی نہیں کرتا کیونکہ اس میں خلافت جیسے حکمرانی کے طریقہ کار ایک ڈیوائن نظام کے بجائے انسانیت پر مرکوزنظام قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنے اس نظریے کو برقرار رکھنا چاہیے اور اسے تھیوپولٹیکل نقطہ نظر سے غلط تشریح نہیں دینی چاہیے؛ ورنہ وہ مغربی استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ کس طرح مغربی تاریخ نگاری، جس کی تشکیل ہیگلین اور اورینٹلسٹ فکر سے ہوئی ہے، تہذیب کا ایک خطی، یورو سینٹرک نظریہ پیش کرتی ہے۔ یہ عالمگیر اور موضوعاتی تاریخ کے قرآنی ویژن کے خلاف ہے، جس کا مرکز فلاح (کامیابی) اور تبدیلی پر ہے اور یہ کسی قومی یا قبائلی بیانیے سے محدود نہیں ہے۔ یہ اختلاف مسلمانوں کو تاریخ کے ساتھ تنقیدی طور پر منسلک ہونے کی ضرورت پر زور دیتا ہے، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ شناخت یادداشت اور تاریخی شعور سے بنتی ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر سینائے نے مسلم معاشروں کی فکری اور ثقافتی خود ارادیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستند مسلم فکری و سیاسی اساس میں جڑے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے مغربی علمی فریم ورک کا اندھی مخالفت کے ساتھ جواب دینے کے بجائے ایک حکمت عملی پر مبنی باخبر مشغولیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کے لیے ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جو ہیگلین یورو سینٹرزم اور غالب مغربی بیانیے کے تنقیدی جائزے سے شروع ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف تنقید کی جائے بلکہ اُن یورو سینٹرک تجزیوں کو فعال طور پر مرکز یت سے ہٹایا جائے جو غیر مغربی حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا ایک اہم حصہ اسلامی شناخت کو اس طرح بحال کرنا ہے کہ وہ جدیدیت کے ہم آہنگی کے دباؤ کی مزاحمت کرے۔ پروفیسر سینائے نے اورینٹلسٹ نقطہ نظر کو ختم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس نے طویل عرصے سے اسلام کی غلط تشریح کی ہے اور اسی کے مطابق عالمی گفتگو کی تشکیل دی ہے۔ مزید برآں، شناخت پر بات چیت کو جنس، سماجی انصاف، اور سیاسی خود مختاری جیسے وسیع مسائل سے جوڑنا چاہیے۔ یہ جامع، غیر آبادیاتی نقطہ نظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ گفتگو متحرک، جامع اور تاریخی شعور پر مبنی رہے۔ بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر منجد ابو بکر نے اس بات پر زور دیا کہ تہذیبیں فطری طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اور اسلام پُرامن تہذیبی بقائے باہمی کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے جو الگ الگ شناختوں کو مٹائے بغیر اخلاقی تکثیریت کی قدر کرتا ہے، بشرطیکہ اس کی تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے پیغمبرانہ روایات کا حوالہ دیا اور بقائے باہمی کے قرآنی اصولوں اور مختلف عقائد کے درمیان مذہبی اور جغرافیائی سیاسی مشترکات کی تاریخی مثالوں پر روشنی ڈالی۔ یہ نقطہ نظر مغربی بیانیے کو چیلنج کرتا ہے جو عموماً تہذیبوں کو ایک تنازع کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ باہمی بقا کو فروغ دینے کی کوششوں کے باوجود، خاص طور پر فلسطین اورالاقصیٰ جیسی جغرافیائی وسیاسی جدوجہد میں تناؤ اور تصادم برقرار رہیں گے۔ ان کے مطابق چیلنج یہ نہیں ہے کہ تمام تصادم کو ختم کر دیا جائے ، بلکہ اصل چیلنج اس سے تعمیری طور پر نمٹنا ہے، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ فکری کردار رد عمل پر مبنی جوابات کی جگہ لے سکے۔

مزید خبریں