اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کی وارداتیں ایک المیہ بن چکی ہیں۔ یہ مسئلہ عرصہ دراز سے جاری ہے، جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر ان کے رشتہ داروں یا قبضہ مافیا کا ناجائز قبضہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ سالہا سال سے بیرون ملک محنت مزدوری کرتے ہیں، اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں، اور اپنی جائیدادیں بناتے ہیں، لیکن جب وہ واپس آتے ہیں تو انہیں اپنی ہی زمینوں پر دوسروں کا قبضہ نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے، حکومتی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ کے سامنے ایک دردناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک مزدور سائل نے اپنی جائیداد پر قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگا لی۔ یہ واقعہ پاکستان کے عدالتی اور انتظامی نظام کی ناکامی کی ایک المناک تصویر پیش کرتا ہے۔ اس شخص نے اپنی جائیداد واپس حاصل کرنے کے لیے کئی سال عدالتوں کے چکر لگائے، لیکن انصاف نہ مل سکا۔ انتہائی مایوسی کے عالم میں اس نے یہ قدم اٹھایا، لیکن اس کے باوجود بھی اس کی جائیداد پر سے قبضہ نہیں ہٹایا گیا۔
یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ پاکستان میں جائیدادوں پر قبضہ کرنے والے مافیا کو اکثر سیاسی شخصیات، اعلیٰ پولیس افسران، اور بیوروکریٹس کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر غریب اور بے بس لوگوں کی جائیدادیں ہتھیا لیتے ہیں۔ عدالتی نظام کی سست روی، پولیس کی نااہلی، اور انتظامیہ کی بے حسی نے اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
75 سالوں سے یہی نظام چلا آ رہا ہے، جہاں طاقتور لوگ کمزوروں کا حق مارتے ہیں۔ موجودہ حکومت ہو یا کوئی اور، سب نے اس ظالمانہ نظام کو برقرار رکھا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادیں ان کی محنت اور پسینے کی کمائی ہوتی ہیں، لیکن جب وہ واپس آتے ہیں تو انہیں اپنی ہی زمینوں پر دوسروں کا قبضہ نظر آتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے لئے سعودی عرب سے 7 قیدی منتقل، اسلام آباد پولیس کی ہم آہنگی سے اڈیالہ جیل منتقل
اس مسئلے کا حل صرف اور صرف ایک مضبوط اور شفاف عدالتی نظام، پولیس کی اصلاح، اور حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کی جائیدادوں پر قبضے سے تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ ایسے المناک واقعات کو دہرایا نہ جائے۔ عوام کی امید ہے کہ حکومت اس مسئلے پر توجہ دے گی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی۔