عمران خان کو تین مختلف کیسز میں سزاسنا کر کیاثابت کرنے کی کوشش کی گئی،سینئراینکر پرسن نے اہم وجہ بتادی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ریاست مدینہ کا دعویدار ہونے پر مختلف کیسز میں سزا سنائی گئی تاکہ لوگوں کا ذہن تبدیل کیا جا سکے ،اپنی گفتگو میں سینئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا جب پنجاب میں عثمان بزدار وزیراعلی تھے اس وقت وہ پنجاب میں مختلف عہدوں پر تبادلے کرواتے رہے اور جس محکمے میں خاورمانیکا خود کام کرتے تھے وہاں پر بھی انہوں نے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کروائیں تب تک سب ٹھیک تھا،

حامدمیر نے کہاکہ پھر اچانک خاور نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا اور عمران خان کے خلاف بیان دے کر ان کو بدکار اور بد کردار ظاہر کرنے کی کوشش کی ،انہوں نے کہاکہ عمران خان کو پہلے سائفر کیس میں سزا سنا کر ملکی سلامتی اور دفاع کو لحق خطرات کا نام دیا گیا ،

اس کے بعد توشہ خانہ کیس میں سزا سنا کر انہیں چور ثابت کرنے کی کوشش کی گئی

تیسری اور آخری عدت کے دوران نکاح کے کیس میں انہیں جو سزا سنائی گئی ہے اس سے مجھے تو یہی سیاسی منطق نظر آرہی ہے کہ انہیں ریاست مدینہ کا دعوی دار ہونے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں ایک بد کردار شخص ظاہر کیاگیاہے۔

یادرہے کہ اس وقت کی حکومت کا منصوبہ یہی تھا کہ عمران خان کو سیاست سے مائنس کیا جائے،

عوام کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیِ،عام انتخابات سے قبل ہونے والے ضمنی الیکشن میں ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور پھر عام انتخابات 2024میں بھی انہیں ذلیل ورسو کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑ گئی

مگراللہ نے مظلوموں کا ساتھ دیا اور الیکشن سے محض چند روزقبل پی ٹی آئی کی جماعتی اور انتخابی شناخت تک چھین لی گئی اس کے باوجود آٹھ فروری کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ملک بھر میں میدان مارلیا۔