منگل,  23 جولائی 2024ء
بجٹ میں ٹیکسزکی بھرمار نےچیخیں نکلوادیں،عوام سکتے میں آگئے

لاہور(روشن پاکستان نیوز)یکم جولائی سے نئے مالی سال کا آغاز ہو گیا ہے اور وہ بجٹ بھی نافذ ہو گیا ہے جس کے عوام دوست ہونے کے حکومت کی جانب سے بہت دعوے کیے گئے تھے مگر اس کی عوام دوستی نے ابھی سے عوام کی چیخیں نکلوانا شروع کر دی ہیں اسی طرح جون کے بجلی کے بل دیکھ کر بھی لوگ سکتے میں ہیں۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا اس بجٹ کو عوام دوست بجٹ کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے لیے اس میں کوئی بھی اچھی خبر نہیں ہے؟

تفصیلات کےمطابق بجلی گیس اورکھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے ،عوامی وسماجی حلقوں میاں حسین،زمردکمبوہ،محمد منشیا،عزیرعلی، لیاقت جتوئی،محمد وسیم ، محمد کبیر ودیگر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتیں ہزار ہا کوششوں کے باوجود بھی عوام دوست بجٹ پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہی ۔
لوگ زندگی بچانے والی ادویات خریدنے سے بھی قاصر ہیں ، ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھا دی گئیں ہیں کہ قیمت سن کر لوگ خالی ہاتھ میڈیکل سٹوروں سے واپس لوٹ رہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار سے پوری قوم سکتہ میں آ گئی ہے ،عام غریب آدمی کے گھر کا بل ہزاروں روپے میں آرہا ہے ،ہر شخص ڈپریشن کا شکار ہے اور لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں جواب دے چکی ہیں ۔
صورت حال کی گمبھیرتا کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ سینئر اداکار راشد محمود 45 ہزار روپے کا بجلی کا بل دیکھ کر پھٹ پڑے اور بل کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ارباب اختیار کو کھری کھری سنا کر آب دیدہ ہو گئے۔
ایک ویڈیو میں راشد محمود نے بتایا، میرے 701 یونٹ کا بل 45368 روپے آیا ہے، میں 4 مرتبہ ہارٹ اٹیک کے باوجود اللہ کے کرم سے زندہ ہوں لیکن آج سوچتا ہوں میرے اللہ مجھے کیوں بچایا، میں نے اپنی ساری زندگی اس ملک کی نہایت ایمان داری کے ساتھ خدمت کی، ہمارے کاموں کے باعث یہاں اربوں روپے اکٹھے ہوئے لیکن پچھلے کئی سالوں سے لاہور میں ہمارے لیے کوئی کام نہیں، اب میں 45 ہزار روپے بجلی کے بل کی ادائیگی کے لیے پیسے کہاں سے لاؤں؟
اس کے بعد ایک اور ویڈیو نظر سے گزری جس میں کوئی صاحب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی توجہ راشد محمود کی اووربلنگ کی طرف دلاتے ہیں تو صوبائی وزیر یہ کہہ کر وہاں سے چلی جاتی ہیں کہ بھائی سب کے بل زیادہ آئے ہیں۔ جہاں تک اووربلنگ کا تعلق ہے تو یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اووربلنگ کرتی رہی ہیں۔ 27 اپریل 2024ء کی ایک خبر یہ ہے کہ ملک بھر میں صرف ایک ماہ کے دوران بجلی کے92کروڑ 69لاکھ یونٹس کی اووربلنگ کرکے عوام سے 34 ارب 29 کروڑ روپے زائد وصول کیے جانے کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس اوور بلنگ کا کوئی سدِ باب کسی نے سوچا؟ اور کیا اب اووربلنگ نہیں ہو رہی ہو گی؟
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے یہ ایک غریب ملک کے غریب عوام کا بجٹ ہے ،اس پر نظر ثانی کرے اور غریبوں کے حالات زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی،گیس، ادویات، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں فوری کمی لا کرریلیف فراہم کرے ۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ عام آدمی یعنی متوسط طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں بڑھایا جائے گا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے امیر طبقے کو ٹیکس دینے والوں میں شامل کیا جائے گا لیکن ہمیشہ کی طرح ہوا اس کے بالکل برعکس ہے۔
عام آدمی کی جیب سے ہی زیادہ سے زیادہ پیسے نکلوا کر ریونیو کے اہداف پورے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ پہلے سے مہنگائی کے شکار عوام آخر کتنا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News