هفته,  13 جولائی 2024ء
آئی ایم ایف مذاکرات سے قبل ٹیکسز سے بھرپور بجٹ قومی اسمبلی سے منظور

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)قومی اسمبلی نے نئے قرض پروگرام پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مزید بات چیت سے قبل آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کا بھاری ٹیکس سے بھرپور بجٹ منظور کر لیا

حکومت نے دو ہفتے قبل ٹیکسز سے بھرپور بجٹ پیش کیا تھا جس پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں فنانس بل پیش کیا جس کی وزیراعظم شہباز شریف نے توثیق کی تھی۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے معاشی اشاریے درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی ہوئی ہے، مالیاتی خسارہ قابو میں ہے جب کہ کرنسی بھی مستحکم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افراط زر کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آگئی ہے۔ معیشت مستحکم ہوئی ہے اور ہم مزید ترقی کے حصول کے لیے اس استحکام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب موجودہ 9.5 فیصد پر نہیں رہ سکتا۔ یہ پر غیر مستحکم ہے اور ہمیں آنے والے 3 سال میں اسے 13 فیصد تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ مجھ پر منحصر ہوتا تو میں فوری طور پر نان فائلرز کا زمرہ ختم کر دیتا لیکن ہم نے اگلے سال کے لیے اہم اقدامات رکھے ہیں اور ان شرح کو تادیبی سطح تک بڑھا دیا ہے تاکہ نان فائلر ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہو۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے براہ راست ٹی وی ٹیلی کاسٹ میں بل کی منظوری کا اعلان کیا۔

12جون کو پیش کیے جانے والے قومی بجٹ میں پالیسی سازوں نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے سال کے لیے ٹیکس محصولات کا چیلنجنگ ہدف 13 کھرب روپے (46.66 ارب ڈالر) مقرر کیا ہے جو رواں سال کے مقابلے میں تقریبا 40 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان 6 سے 8 ارب ڈالر قرض کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہا ہے۔

ٹیکس ہدف میں اضافہ رواں سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں براہ راست ٹیکسوں میں 48 فیصد اور بالواسطہ ٹیکسوں میں 35 فیصد اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔

پٹرولیم لیویز سمیت نان ٹیکس ریونیو میں 64 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے ساتھ موبائل فونز پر بھی ٹیکس 18 فیصد تک بڑھ جائے گا جب کہ رئیل اسٹیٹ سے حاصل ہونے والے کیپٹل گین پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا جائے گا ۔ مزدوروں کو آمدنی پر زیادہ براہ راست ٹیکس کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں ، خاص طور پر جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے حمایت یافتہ ارکان پارلیمنٹ نے بجٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اس سے مہنگائی مزید بڑھ جائیگی ۔

پاکستان نے نئے مالی سال کے لئے اپنے مالی خسارے میں تیزی سے کمی کا تخمینہ لگایا ہے جو جی ڈی پی کے 5.9 فیصد تک پہنچ جائے گا، جو رواں سال کے لئے 7.4 فیصد کا نظر ثانی شدہ تخمینہ ہے۔

مرکزی بینک نے بھی بجٹ سے ممکنہ افراط زر کے اثرات کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کے لئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں محدود پیش رفت کا مطلب ہے کہ محصولات میں اضافہ ٹیکسز میں اضافے سے ہونا چاہئے۔

آئندہ مالی سال کی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ افراط زر کی شرح 12 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News