اتوار,  23 جون 2024ء
کچے کے ڈاکوؤں اور پولیس اہلکاروں کے مبینہ روابط منظرعام پر لانے والی انکوائری رپورٹ کو دبادیاگیا

لاہور(روشن پاکستان  نیوز)پولیس اہلکاروں اور کچے کے ڈاکوؤں میں روابط کا انکشاف ہونے کے باجوداعلیٰ پولیس حکام نے مبینہ طور پر معاملے کو دبادیا ہے اورپنجاب حکومت کو اس بارے میں مکمل طور پرلاعلم رکھا جارہا ہے ۔

ذرائع نے بتایاکہ راجن پور میں کچے کے علاقے میں موجود ڈاکوؤں کے راج نے قانون اور حکومتی رٹ کو چیلنج کر رکھا ہے۔

چند ماہ قبل ایک رپورٹ تیار کی گئی جس میں پولیس اہلکاروں اور کچے کے ڈاکوؤں میں روابط کا انکشاف ہوا تھا۔

رپورٹ میں پنجاب کی حدود میں آنے والے کچے کے علاقے کا احاطہ کیاگیا ہے جس کے مطابق ضلع رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد کی باؤنڈری ضلع راجن پور و سندھ کے کچھ ایریا سے ملحقہ ہے جس میں کچھ جرائم پیشہ گینگز ایکٹو ہیں۔

یہ جرائم پیشہ گینگز کافی عرصہ سے تحصیل صادق آباد کے امن وامان کیلئے بہت بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

یہ جرائم پیشہ کچہ امر یا ضلع راجن پور ضلع کشمور (سندھ) میں کمین گاہیں بنا کر رہائش پذیر ہیں۔

یہ جرائم پیشہ گینگز رات کی تاریکی میں کچھ ایریا سے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے علاقہ جات تھانہ بھونگ، اچھکہ احمد پورلمہ وکوٹ سبزل میں فصل کماد کا سہارا لیکر موومنٹ کرتے ہیں اور بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان قتل، پولیس ٹارگٹنگ ، ڈکیتی، واردات سرقہ بالجبر وغیرہ جیسی سنگین نوعیت کی واردات سر انجام دینے کے بعد با آسانی واپس اپنی کمین گاہوں کچہ امریا کی طرف فرار ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان جرائم پیشہ گینگز کے خلاف متعد شن کے نام سے آپریشن کیے جاچکے ہیں لیکن کوئی خاص کامیابی نہ حاصل نہ ہوسکی ہے۔ گزشتہ سال بھی تقریبا 4/5 ماہ کچہ کے علاقہ میں آپریشن ہوتا رہا جس میں اندھر گینگ کے سرغنہ جان محمدعرف جانو سمیت درجنوں جرائم پیشہ افراد کو جہنم واصل کیا گیا۔

جس کے بعد کچھ عرصہ سے اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں قدرے کمی واقع ہوئی تاہم اس کے ساتھ ساتھ کچھ جرائم پیشہ گینگزکی جانب سے بھی پولیس اور مقامی افراد کو متعدد بار تھریٹ دیئے گئے۔

سال 2023ء میں اغواء و اغواء برائے تاوان کے کل 21 وقوعہ جات میں 36 اشخاص اغواء ہوئے ہیں۔

جن میں سے 33 اشخاص واپس آگئے ہیں ۔ 3 کسی اشخاص ابھی تک جرائم پیشہ گینگزکے قبضہ میں ہیں جبکہ 3 کس اشخاص جرائم پیشہ کو تاوان دے کر واپس آئے ہیں۔ ہنی ٹریپ کے کل 29 وقوعہ جات میں 67 اشخاص کو اغواء ہونے سے بچایا گیا جبکہ 1 شخص قتل ہوا۔

اسی طرح صادق آباد میں کل وقوعہ جات واردات سرقہ بالجبر 172 1 جبکہ واردات ڈکیتی 4 ہوئی ہیں۔ جس میں سے 28/30 واردات سرقہ بالجبر اور 2 واردات ڈکیتی کچھ جرائم پیشہ افراد کی طرف سےہوئی ہیں۔

کچھ علاقہ رحیم یارخان و ضلع راجن پور ( پنجاب ) ضلع اوباڑو اور ضلع کشمور ( سندھ) اور ضلع ڈیرہ بگٹی (بلوچستان) پر مشتمل ہے۔ کچے کے تھانہ جات بھونگ ، ماچھکہ اور کوئسبزل ضلع رحیم یار خان تھا نہ شاہوالی، تھا نہ بنگلہ اچھا تحصیل روجھان ، تھانہ گوٹھ مزاری ضلع راجن پور اور تھانہ کھمبا ، تھانہ روتی، چوکی میر کوش ، تھانہ اوباڑ ضلع گھوٹکی سندھ کی حدود سے متصل ہیں۔

تحصیل روجھان ضلع راجن پور کی بارڈر کی لمبائی 50/55 کلو میٹر اور سندھ کی بارڈر کی لمبائی بھی تقریبا 50/55 کلو میٹر ہے جو کہ ضلع رحیم یار خان سے متصل ہے۔

کچے کے علاقے تھا نہ ماچھکہ ضلع رحیم یار خان میں 18 مواضع ہیں جو 63 ہزار ایکڑ پرمشتمل ہیں، جس میں 14500ایکڑ صوبائی اراضی زیر آب آچکی ہے جبکہ بھونگ میں کچے کے علاقے میں 3 مواضع ہیں۔ جس کا رقبہ تقریبا 2200 ایکڑ ہے۔ ضلع رحیم یار خان کا رقبہ تقریباً25000/30000 ایکڑ ہے جو کچھ ایریا و اس سے ملحقہ ہے۔

جس کے 90/95 فیصد حصہ پر گنا کاشت ہے۔ ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے کچھ ایریا سے ملحقہ علاقہ جات میں سید برادری ، موسانی بلوچ، جھک برادری، ملک برادری، چانگ یارخان برادری چھان برادری ، بابڑا اندھر دشتی اعوان، کپڑا ہیلر برادری ہونگی / ماحی برادری کو برادری بگٹی بلوچ مزاری بلوچ پٹھانی بلوچ وغیرہ اقوام آباد ہیں۔

مذکورہ علاقہ جات میں اہلکار ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان میں ڈاکوؤں کو سہولت کاری فراہم کر تے رہے اور بھتہ خوری اور منشیات فروشی میں بھی ملوث پائے گئے ۔

رپورٹ کے مطابق مذکور اہلکار ڈاکوؤں کو پولیس کارروائی کی پیشگی اطلاع دیتے ہیں، ان کے ملوث ہونے کی وجہ سے چھاپے کامیاب نہیں ہوتے،

اس رپورٹ میں اس وقت مختلف تھانوں میں تعینات پانچ ایس ایچ اوز،ایک چوکی انچارج اور دو اے آیس آئی کے نام سامنے آئے تھے ۔

رپورٹ میں اعلیٰ پولیس حکام سے مذکورہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی تھی۔

سفارشات میں کہاگیا کہ جو پولیس آفیشل کچھ  جرائم پیشہ مجرمان کا سہولت کار ہے اس کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کی جانے کے ساتھ ساتھ محکمہ پولیس سے فارغ کیا جانا ضروری ہے ۔

پولیس کیلئے کچھ ایریا کے حوالے سے بلٹ پروف بکتر بند گاڑیاں مہیا کی جانی ضروری ہیں تا کہ اگر جرائم پیشہ افراد چھپ کر وار کریں تو پولیس جوان جانی نقصان سے محفوظ  رہ سکیں ۔

اے پی سی  کے معیار کو بہتر کیا جائے جو جدید اسلحہ اور راکٹ لانچر حملہ کی صورت میں ملازمین کو تحفظ دے سکے۔

پولیس تھانہ بھونگ، ماچھکہ ، کوسبزل واحمد پورلمہ کوئی پولیس موبائل مہیا کی جانی ضروری ہیں تا کہ کسی بھی سنگین وقوعہ کی صورت میں بروقت رسپانس دیا جا سکے۔

متعلقہ تھانہ جات کے پولیس آفیسران کو افسران بالا کی طرف سے سورس نیٹ ورک کو بہتر بنانے پر زور دینا چاہیے اور پر اپر سورس فنڈ مہیا کیا جائے۔

مقامی لوگ جو سہولت کاری میں ملوث ہیں ٹرائل کے بعد انکے خلاف سخت کارروائی کی جانی ضروری ہےہے تا کہ دیگر پولیس آفیشل سبق حاصل کریں۔

سڑک کنارے ے فصل کمار کی کاشت پر پابندی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا ضروری ہے۔

سڑک کنارے فصل کماد کی کاشت کی روک تھام کیلئے متعلقہ پولیس آفیسران ، تحصیل انتظامی، شوگر ملز انتظامی و علاقائی معزز شخصیات کے ذریعے مقامی زمینداروں کو سڑک کنارے فصل کمار کی کاشت کی پابندی کے حوالے سے موٹیویٹ کیا جانا اور کاشت کے نتیجے میں جرائم پیشہ افراد کی طرف سے نقصان اور حکومتی احکام پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں قانونی کاروائی کے بارے میں آگاہ کیے جانا ضروری ہے۔

سڑک کنارے فصل کمار کی کاشت پرپابندی کی خلاف ورزی کرنے والے زمینداروں کے خلاف بڑے زمینداروں سے لیکر چھوٹے زمینداروں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کیجانی ضروری ہے۔

قانون میں ترامیم نافذ کی جائیں اور کچے کے جرائم سے متعلق مقدمات میں سمری ٹرائل کے ذریعے مجرموں کو اصل سزائیں دی جائیں۔

جن ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ ابھی کم ہے اسے واپس لا کر اسے باعزت شہری بنے کا موقع دیا جائے گا۔ ان کے لیے بحالی مراکز قائم کر کے انھیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

کچے کے لوگوں کو ہسپتالوں تعلیمی اداروں، پلوں ، سڑکوں اور روزگار کے مواقع سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تا کہ ان کی ذہنی، سماجی اور معاشی بحالی کا کام تیزی سے شروع ہو سکے۔

جیسا کہ اندرون سندھ اور اندرون بلوچستان میں رہنے والوں کے لیے ملازمت کا مخصوص کو شہ ہے، اسی طرح جنوبی پنجاب کے کچے کے لیےہر محلے میں زمت کا کوٹہ مختص کیا جائے تا کہ لوگوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا جا سکے۔ تاکہ کچے کے لوگ اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرائیں تا کہ باعزت روزگار کو یقینی بنایا جا سکے۔

10 رحیم یار خان اور راجن پور ضلع کے درمیان جزیرے، ڈیلٹا ہیں جہاں فوج / پولیس کو اپنے تربیتی مراکز قائم کرنے چاہئیں۔ آبادی سے دورایسی جگہیں فوج کی چھاؤنیوں کے لیے بہت موزوں ہیں۔

جب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دفاعی قوتوں کی نقل و حرکت شروع ہوجائے گی تو جرائم پیشہ افراد کے ٹھکانے ختم ہو جائیں گے۔

ان تمام سفارشات کے باوجود ذرائع بتاتے ہیں کہ اعلیٰ پولیس حکام نے چند ماہ قبل تیار کی گئی اس رپورٹ کو دبادیا ہے اورپنجاب حکومت کو اس رپورٹ سے لا علم رکھا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جاسکے۔

 

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News