لوٹ مار کابازار گرم، سڑک پر پڑی خاتون بجلی کے بل سے پریشان خودکشی پر مجبور

اسلام آباد(سائرہ اختر) پاکستان میں ایک طرف الیکشن مہم جاری ہے اور انتخابات تقریباً ایک ہفتے بعد ہونے جارہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور میں عوام سے ریلیف دینے کیلئے وعدےتو کررہے ہیں، لیکن ان وعدوں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

لاہور میں میاں بیوی نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے ماہ ہماری بجلی کا بل 450روپے آیا تھا جسےہم نے آسانی سے جمع کروادیا تھا لیکن اس بار 46ہزار کا بل بھیجا گیا ہے۔ جو ہماری استطاعت سے باہر ہے۔سڑک پر پڑی خاتون رو رو کر چیخ رہی تھی کہ حکومت ہماری ساتھ کیا کررہی ہے۔ خاتون کے شوہرنے کہا کہ ہم کہاں جائیں۔دو وقت کی روٹی کمائیں یا ان بجلی ، گیس کے بھاری بل جمع کروائیں۔ احتجاج کے دوران دوسری خاتون نے کہا کہ ہم گھر میں چار لوگ ہیں،میاں بیوی اور دو بچے ، ہمارا بل ایک لاکھ 42ہزار آیا ہےجو سراسر ظلم ہے۔

الیکشن ایک ہفتے بعد ہو جائیں گے مگر کیا عوام کے مسائل میں کمی آئے گی کیا یہ ہوشربا بجلی کے بلوں میں کمی واقع ہو گی یا لوٹ مار کا بازار نہیں حکومت بھی جاری رکھے گی۔کیا سیاسی جماعتوں کے پاس ان بلوں کے مسائل کا بھی کوئی حل ہے۔آئی ایم ایف قرضے حکومتوں کو دے اور اس کی ادائیگی ایسے بلوں کی صورت میں عذاب الہی ہی ہے بس حکومتوں کے لیے۔

اب عوام کوبھی احساس کرلینا چاہئے کہ ان کے ووٹ کی کیا حیثیت ہے، عوام ان نمائندوں کو منتخب کریں جو عوامی مسائل حل کرنے میں سنجید ہ ہوں ۔حکومتیں اربوں روپے کے قرضے لے چکی ہیںجن کو واپس کرنے کے لئے سارب بوجھ عوام پرڈالا جارہاہے۔اس لئے اس بار عوام کو صحیح فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے آفریت سے جان چھڑائی جا سکے۔

پبلک رائے عامہ کے مطابق ان بجلی کے بلز کی ادائیگی اشرافیہ سے ہونی چاہیے نا کہ غریب عوام کی جن کے پاس پہلے سے کھانے کو کچھ نہیں ہے تو وہ یہ بلز کیسے ادا کریں گے ۔گھروں میں سارا دن کام کرنے والی خواتین تک تڑپ اٹھی ہیں کہ ہم تو سارا دن گھروں سے باہر رہتی ہیں ہمارا بل اسقدر زیادہ اس کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں نگران حکومت کے ساتھ آئندہ والی حکومت کو بھی اس گھمبیر مسلے کا حل کرنا ہو گا ۔