اتوار,  23 جون 2024ء
لاہور ہائیکورٹ نے طلبہ کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی سکیم کو این او سی سے مشروط کر دیا

لاہور(روشن پاکستا ن نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی طلبہ کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی سکیم کو این او سی سے مشروط کر دیا، عدالت نے بائیکس فراہمی کی سکیم سے متعلق پنجاب حکومت سے تفصیلی رپورٹ 27 مئی تک طلب کر لی۔لاہور ہائیکورٹ میں تدارک سموگ سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق و دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آلودگی کامسئلہ سنگین ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔دوران سماعت عدالت نے حکومت پنجاب کی جانب سے طلبہ کو موٹربائیکس کی فراہمی کی سکیم سے متعلق ریمارکس میں کہا کہ منصوبے سے قبل ماحولیاتی این او سی نہ لینا فوجداری جرم ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے طلبہ کو موٹرسائیکلوں کی فراہمی کی سکیم ماحولیاتی این او سی سے مشروط کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایل ڈی اے کے 7 سپورٹس کمپلیکسز کی بحالی اور درختوں کی کٹائی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت عالیہ نے شہر کے تمام پارکوں کو مکمل بحال اور محفوظ بنانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پارکوں کی بحالی اور محفوظ بنانے کے لئے جرمانے بھی کرنا پڑیں تو کئے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کیس کی سماعت کے دوران طلباءمیں موٹر سائیکلیں تقسیم کرنے کیخلاف جاری حکم امتناعی میں توسیع کر تے ہوئے حکومت پنجاب کو موٹر سائیکل اور ماحولیاتی پالیسی 17 مئی تک جمع کروانے کی ہدایت کی تھی ۔

عدالت نے ماحولیاتی آلودگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے موٹر سائیکل قرعہ اندازی سکیم بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ طلبہ کو موٹر سائیکل نہیں، الیکٹرک بسیں دینے کی ضرورت ہے، جب تک نئی پالیسی نہیں بن جاتی موٹر سائیکلیں تقسیم نہ کی جائیں۔سموگ اور ماحولیاتی آلودگی پہلے ہی بہت بڑھی ہوئی ہے،حکومت کو الیکٹرک بسوں کو فروغ دینا چاہئے ،سکول اور کالجز کو بسیں فراہم کرنے سے ٹریفک کا دباﺅ کم ہوگا ،عدالت نے زیر التوا ءکیسوں پر حکومتی وزرا کو بیانات دینے سے روک دیاتھا۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News