اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)پاکستان پیپلزپارٹی کی سینئر رہنماورکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن چاند پر روانہ ہونے کو اہم سنگ میل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ مشن خلائی تحقیق کو بڑھانے کی قوم کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی سینئر رہنماورکن قومی اسمبلی سحر کامران نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان کو شاندار کامیابی پر مبارکباد۔
انہوں نے کہاکہ یہ واقعی ایک تاریخی لمحہ ہے جب پاکستانی سیٹلائٹ آئی کیوب قمر چاند کے گرد چکر لگانے کے لیے چین کے Chang’e-6 قمری مشن میں شامل ہوا۔
سحر کامران نے کہاکہ اس مشن کا مقصد چاند کے تاریک پہلو کو تلاش کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ مشن آئی ایس ٹی اسلام آباد،ایس جے ٹی یو1986،این ایس اے پاکستان کے ناقابل یقین تعاون کا ثبوت ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے کہاکہ مشن چاند کے نمونے جمع کرے گا
آخر میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کا آئی کیوب قمر خلائی تحقیق کی حدود کو بڑھانے کے لیے قوم کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ اٹھتے رہو چمکتے رہو پاکستان۔
پاکستان زندہ آباد ۔
یادرہے کہ پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن چاند پر روانہ ہوگیاہے۔
پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن پاکستانی وقت کے مطابق 2 بج کر 27 منٹ پر خلا میں بھیجا گیا، چاند پر پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن’آئی کیوب قمر‘چین کے ہینان اسپیس لانچ سائٹ سے روانہ ہوا۔
مشن کی کی روانگی پر سپارکو میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جہاں سپارکو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تالیوں سے گونج اٹھا۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کے رکن کور کمیٹی ڈاکٹرخرم خورشید نے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کا سیٹلائٹ مشن 3 سے 6 ماہ تک چاند کے اطراف چکر لگائے گا، سیٹلائٹ کی مدد سے چاند کی سطح کی مختلف تصاویر لی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آئی کیوب قمر کا ڈیزائن اور ڈیولپمنٹ چین اور سپارکونے تیار کیا ہے، پاکستان کے پاس تحقیق کے لیے اپنی سیٹلائٹ سے لی جانے والی چاند کی تصاویر ہوں گی، یہ دنیا کا پہلا مشن ہے جو چاند کی دوسری طرف سے نمونے حاصل کرے گا، یہ مشن 53 دن پر مشتمل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مشن میں چاند پر چکر لگانا، ٹیک آف کرنا اور واپس پہنچنا شامل ہے جب کہ یہ 2 کلو گرام تک کا مادہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔
دوسری جانب جنرل منیجر آئی ایس ٹی سید ثمر عباس کا کہنا تھاکہ یہ تاریخ ساز مناظر ہیں، پاکستان کا پرچم چاند کے مدار میں پہنچنے والا ہے۔
سید ثمر عباس نے مزید کہا کہ چاند کا موسم، زمین اور مقناطیسی میدان سے متعلق اس مشن سے اہم معلومات ملیں گی۔
2022 میں چینی نیشنل اسپیس ایجنسی نے ایشیا پیسیفک اسپیس کارپوریشن آرگنائزیشن (ایپسکو) کے ذریعے رکن ممالک کو چاند کے مدار تک مفت پہنچنے کا منفرد موقع فراہم کیا تھا۔
ایپسکو کی پیشکش پر رکن ممالک نے اپنے منصوبے بھیجے تھے، ایپسکو کے رکن ممالک میں پاکستان، بنگلا دیش، چین، ایران، پیرو، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور ترکی شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی نے بھی مجوزہ منصوبہ جمع کرایا تھا، 8 ممالک میں سے صرف پاکستان کے منصوبے کو قبول کیا گیا، دو سال کی محنت کے بعد سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ کو مکمل کیا جاسکا۔