نگران کابینہ نے الیکشن کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دیدی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) نگراں وفاقی کابینہ نے آرمی اور سول آرمڈ فورسز کے دستوں کی الیکشن میں تعیناتی کی منظوری دے دی۔

نجی ٹی وی کے مطابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی زیرصدارت ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہوگیا۔

نگراں وفاقی کابینہ نے ایف بی آر ریفارمز کمیٹی بنانے کی منظوری دے دی، ایف بی آر ریفارمز کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے جبکہ وزیر آئی ٹی، تجارت، قانون، خارجہ اور پرائیویٹائزیشن کمیٹی کے رکن ہوں گے۔

اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے آرمی اور سول آرمڈ فورسز کے دستوں کی الیکشن میں تعیناتی کی منظوری بھی دے دی، حساس حلقوں میں ریپڈ ریسپانس ٹیم کے طور پر ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔

اس سے قبل وزارت داخلہ نے عام انتخابات 2024 میں پاک فوج تعینات کرنے کی سمری تیار کرکے وفاقی کابینہ کو ارسال کی تھی۔

عام انتخابات 2024 میں فوج تعیناتی کی سمری تیار کرلی گئی، جس کے بعد وزارت داخلہ نے سمری وفاقی کابینہ کو بھجوا دی تھی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی نگراں کابینہ کی منظوری کے بعد عام انتخابات کی سیکیورٹی کے لیے فوج تعینات ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے 2 لاکھ 77 ہزار فوجی اہلکار مانگے تھے، پاک فوج، رینجرز اور ایف سی اہلکار عام انتخابات میں تعینات ہوں گے۔

واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو ہونا ہے جس کے لیے تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے تمام بلدیاتی محکموں کے فنڈز بھی منجمد کردیے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق بلدیاتی محکموں کے ترقیاتی فنڈز عام انتخابات کے نتائج کے اعلان تک منجمد کیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اس دوران مقامی حکومتیں صرف سینیٹیشن اور صفائی کے روز مرہ امور سر انجام دیں گی۔