جمعه,  19 اپریل 2024ء
ملک کے اثاثوں کو بیچنا نہیں چاہیے۔سحر کامران ممبر قومی اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماسحر کامران نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ پیپلزپارٹی کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ اس ادارے کی نجکاری ہو، پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کے لیے ایک اچھا پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔

نجی ٹی وی سے گفتگومیں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو زیادہ نقصان سابقہ ادوار میں رہنے والی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کے لیے ایک اچھا پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے ،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اس کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ہمارے ملک کا ایک قومی اثاثہ ہے، اس کو بیچ دینا اس کا حل نہیں اور ملک کے قومی اثاثے بیچے نہیں جاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے بہت ہی کامیابی کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اس ادارے کو چلایا ہے، پی آئی اے کے اپنے بہت سارے قیمتی اثاثے ہیں، اس کے لیے صرف ایک پالیسی چاہیے،اس سے قبل جب صدر آصف علی زرداری تھے تو انہوں نے ایک بڑا اچھا وے فارورڈ دیا تھا، اگر ہم ترکی کی قومی ایئر لائن کے ساتھ روٹ شیئرنگ کا معاہدہ کر لیتے تو آج پی آئی آے کے حالات مختلف ہوتے، لیکن افسوس کہ پی آئی اے مختلف بحرانوں کا شکاررہی ۔

انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے دورحکومت میں پائلٹس کا بہت زیادہ تنازعہ چلتا رہا اس سے بھی اس ادارے کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے روٹس غیر ملکی ایئر لائنز کو دے دیے گئے جس سے کافی نقصان ہوا ،ہم سمجھتے ہیں کہ اب بھی ایک اچھا سٹریٹیجک پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان پیپلز پارٹی کی دبنگ آواز سحر کامران کو ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے پرادارہ روشن پاکستان نیوز کی جانب سے ڈھیروں مبارکباد

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں تھی، حکومت کی اتحادی جماعت تھی ،پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے اپنی پوزیشن کو تب بھی برقرار رکھا تھا جب ہم پی ڈی ایم کی حکومت میں تھے ،اور اب بھی ہم نے اپنا وہی عہد برقرار رکھا ہوا ہے، ہاں ہم نے اس کو بہتر کرنے کے لیے رائے ضرور دی ہے کیونکہ اس کو بیچ دینا حل نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اگر کوئی اور اس ادارے کو منافع کمانے کیلئے چلا سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں چلا سکتے؟

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News