اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)اوورسیز پاکستانی زبیر یوسف کے ساتھ ایک انتہائی سنگین اور منظم نوعیت کا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں ان کی گاڑی، فلیٹ اور مالی حقوق پر قبضے کے لیے جعلسازی، دھونس، ڈکیتی اور متعدد جھوٹے مقدمات کا سہارا لیا گیا۔ فراہم کردہ تحریری نوٹس کے مطابق یہ کارروائیاں مبینہ طور پر اصغر حسین، جاوید اختر اور ان کے ساتھیوں کی ملی بھگت سے کی گئیں، جبکہ تھانہ بھارہ کہو کی مبینہ غفلت اور عدم تعاون نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔
زبیر یوسف نے صورتحال کی سنگینی پر ردعمل دیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد ناصر نقوی سے فوری ایف آئی آر کے اندراج، خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل اور جعلسازی و قبضہ گروہ کے خلاف قانونی کارروائی کی باقاعدہ درخواست جمع کرائی ہے۔
اصغر حسین نے 8 اپریل 2023 کو یوسف فارم ہاؤس (22 میل، مری روڈ) سے زبیر یوسف کی گاڑیوں اور تین موٹرسائیکلوں کے اصل رجسٹریشن کاغذات چوری کیے۔
تحریری نوٹس (D.N:147-CCR/27-04-2023) کے مطابق درج کاغذات درج ذیل گاڑیوں و موٹرسائیکلوں کے تھے:
1- JY-500 Mercedes
2- TZ-557 Suzuki Pickup
3- IDD-4414 Suzuki Potohar Jeep
4- SD-637 Toyota Premio
5- RJQ-8756 Union Star 70CC
6- ASQ-982 Hero 70CC
7- RJO-7837 Hero 70CC
یہ اصل رجسٹریشن ڈاکومنٹس مبینہ طور پر اصغر حسین کے قبضے میں ہیں، جنہیں وہ غیر قانونی خرید و فروخت یا اپنے نام منتقلی کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسی واقعے پر زبیر یوسف نے 27 اپریل 2023 کو SDPO مری کو تحریری شکایت جمع کروائی جس کا ڈائری نمبر D.N:147-CCR/27-04-2023 درج ہوا۔
پولیس کا مبینہ عدم تعاون
زبیر یوسف کے مطابق انہوں نے بارہا تھانہ بھارہ کہو اور تھانہ مری کو تحریری درخواستیں دیں، مگر پولیس نے دانستہ طور پر ڈائری نمبر نہیں لگایا اور کارروائی کا جھوٹا یقین دلاتے رہے۔ نوٹس میں یہ الزام بھی ہے کہ یہ تمام کارروائی اصغر حسین اور جاوید اختر نے پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے ترتیب دی۔
جعلسازی، جھوٹا مقدمہ اور گاڑی کی منتقلی
اصغر حسین نے 30 جنوری 2024 کو گاڑی پر جھوٹا اقرارِ حق دائر کیا اور مبینہ طور پر رشوت کے ذریعے قانونی نوٹس رکوا لیے۔ 15 فروری 2025 کو اس نے یکطرفہ ڈگری حاصل کر کے ETO سے گاڑی اپنے نام منتقل کرا لی۔
جعلی چیک کا استعمال
عدالت میں اصغر حسین نے چیک نمبر 43996753 مورخہ 20 مارچ 2020 پیش کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ چیک اس نے زبیر یوسف کو دیا تھا۔ جبکہ ریکارڈ کے مطابق اسی تاریخ کو زبیر یوسف برطانیہ میں موجود تھے (8 مارچ 2020 سے جولائی 2020 تک)، جس سے یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور جعلسازی ثابت ہوتا ہے۔ یہی چیک بعد میں ایک جائیداد پر قبضے کے لیے جھوٹے مقدمہ میں بھی استعمال کیا گیا۔
کیس نمبر 2: 17 میل فلیٹ پر ڈکیتی، غیر قانونی قبضہ اور جھوٹا مقدمہ
ڈکیتی اور قبضہ — 7 مئی 2025
اصغر حسین، جاوید اختر اور دیگر افراد نے 7 مئی 2025 کو زبیر یوسف کے 17 میل واقع ذاتی فلیٹ میں زبردستی داخل ہو کر تالا توڑا، اپنا نیا تالہ لگا دیا اور قیمتی گھریلو سامان، اے سی، فریج اور دیگر اشیاء اٹھا کر لے گئے۔ یہ تمام کارروائی ایک کالے ویگو ڈالے میں کی گئی جس پر سرکاری نمبر پلیٹ GBA-008 (Quetta) لگی ہوئی تھی، تاکہ کوئی مداخلت نہ کر سکے۔ فلیٹ کے سکیورٹی گارڈ خان غالب نے اس واقعے کی باقاعدہ تصدیق کی۔
جھوٹے مقدمے کا اندراج اور واپسی
اصغر حسین نے 5 جون 2025 کو فلیٹ پر جھوٹا اقرارِ حق دائر کیا، مگر صرف پانچ دن بعد 11 جون 2025 کو اسے خود ہی واپس لے لیا۔ وجہ یہ تھی کہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی تھا اور وہی چیک نمبر 43996753 اس مقدمے میں بطور ثبوت استعمال کیا جا رہا تھا جو پہلے ہی سوزوکی کیس کی ڈگری کے لیے استعمال ہو چکا تھا۔
چیک کی تاریخ پر نیا جھوٹ
عدالت میں اصغر حسین نے یہ نیا مؤقف اختیار کیا کہ یہ چیک اس نے 20 مارچ 2023 کو زبیر کو دیا تھا، جبکہ چیک کی اصل تاریخ 20 مارچ 2020 ہے، اور اس روز زبیر پاکستان میں موجود ہی نہیں تھے۔ اس تضاد نے جعلسازی کو مزید واضح کر دیا۔
دیگر جھوٹے مقدمات، چیک فراڈ اور جعلسازی کا ریکارڈ
اصغر حسین نے متعدد مقدمات میں مختلف اور متضاد دعوے کیے۔ چیک نمبر 43996791 مورخہ 2 فروری 2020، مالیت ایک کروڑ روپے، کو بنیاد بنا کر اس نے تھانہ بھارہ کہو میں FIR نمبر 155/23 درج کروائی، دعویٰ کیا کہ چیک Volkswagen Amarok کی خریداری کے لیے دیا گیا تھا۔
تفتیش میں یہ ثابت ہوا کہ یہی چیک وہ سی پی او راولپنڈی میں 56 کنال زمین کی خریداری کے جھوٹے مقدمے میں بھی استعمال کر چکا تھا، جس کی ڈائری نمبر 1752/2023 SDPO مری نے جھوٹا قرار دے کر خارج کیے جانے کی سفارش کی۔ بعد ازاں اصغر حسین کے خلاف دفعہ 182 کا کلندرہ مرتب ہوا۔
اسی طرح وہ 16 مارچ 2023 کو تھانہ سول لائنز راولپنڈی، 20 مارچ 2020 کو تھانہ ایئرپورٹ جیکب آباد، اور 18 مارچ 2023 کو ضلع شکارپور میں بھی جھوٹے مقدمات درج کرا چکا ہے۔ ساتھ ہی 15 مارچ 2023 کو زبیر یوسف کے راولپنڈی امام باڑے والے مکان پر قبضے کی کوشش بھی کی گئی۔ نوٹس کے مطابق یہ مقدمات ایک ہی مقصد کے لیے دائر کیے گئے—زبیر یوسف کو ان کی جائیدادوں سے بے دخل کرنا۔
آئی جی اسلام آباد سے ایف آئی آر اور خصوصی انکوائری کی درخواست
زبیر یوسف نے آئی جی اسلام آباد ناصر نقوی سے درخواست کی ہے کہ وہ جعلسازی، چیک فراڈ، ڈکیتی، ناجائز قبضے اور پولیس کی مبینہ ملی بھگت کے تمام پہلوؤں کی مشترکہ اور جامع تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دیں۔ درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملوث افراد کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ریکارڈ کی فورنزک جانچ کی جائے، اور اوورسیز پاکستانیوں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
زبیر یوسف نے کہا ہے کہ یہ گروہ منظم طریقے سے جھوٹے مقدمات اور جعلسازی کے ذریعے ان کی جائیدادیں ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس کے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔











