جمعرات,  03 اپریل 2025ء
پاکستان پوسٹ میں 6 ہزار سے زائد غیر قانونی بھرتیاں، انکوائری کمیٹی کی کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش

اسلام آباد (راجہ اسرار حسین) پاکستان پوسٹ میں 6 ہزار سے زائد بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انکوائری کمیٹی نے ان تمام بھرتیوں کو میرٹ اور کوٹہ کی خلاف ورزی، اقرباء پروری، اور کرپشن کے ذریعے ہونے والا عمل قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے ان سیٹوں پر نئی بھرتیاں کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں، اور ملوث افسران کے خلاف ایف آئی اے اور نیب کو کارروائی کی سفارش کی ہے۔

تاہم، 22 دن گزرنے کے باوجود بااثر افسران کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ڈائریکٹر جنرل کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ان افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی، میرٹ و کوٹہ کی خلاف ورزی، اور ٹمپرنگ کے الزامات ہیں۔

پاکستان پوسٹ کی دستاویزات کے مطابق، انکوائری کمیٹی نے پوسٹ ماسٹر جنرل نارتھ پنجاب راولپنڈی نثار محمد خان کو غیر قانونی بھرتیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، اور ان کے خلاف ٹمپرنگ، اقرباء پروری، اور کرپشن کے ذریعے بھرتیاں کرنے کی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ، پی ایم جی نثار محمد خان کے خلاف پہلے ہی پشاور سرکل کی انکوائری کمیٹی نے کارروائی کی سفارش کی تھی، لیکن تاحال ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

اسی طرح پوسٹ ماسٹر جنرل ملتان سرکل ذوالفقار حسین کے خلاف بھی کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات ہو رہی ہیں، لیکن پاکستان پوسٹ کی جانب سے ان کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی نہیں کی گئی۔

انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، 17 فیصد بھرتیاں پاکستان پوسٹ کے افسران اور ملازمین کے عزیز رشتہ داروں کو کی گئیں، جن کے تعلیمی کاغذات بھی مکمل نہیں تھے۔ اس کے علاوہ، امتحانات کے پیپرز کی تبدیلی میں ملوث افسران کے خلاف بھی کارروائی تاخیر کا شکار ہے۔

ڈی جی پاکستان پوسٹ سمیع اللہ خان نے ملوث افسران کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے، لیکن بااثر افراد نے ان افسران کو مجرمانہ تحفظ فراہم کیا اور ان کے لیے محکمانہ ترقیاں بھی منظور کیں۔کیا وزارت مواصلات ان بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی کرے گی؟ اس سوال پر، ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ سمیع اللہ خان سے رابطہ کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

مزید خبریں