باجوہ کے فیصلوں نے پاکستان کا بیڑا غرق کیا ۔ عمران خان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ 19 ماہ سے کہہ رہا ہوں بات کرنے کو تیار ہوں، میں سیاسی آدمی ہوں، مذاکرات کے لیے تیار ہوں، 90 فیصد فوجی پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے جنرل (ر) باجوہ نے مجھ سے کہا ساری فوج تمہارے ساتھ ہے، باجوہ کے فیصلوں نے پاکستان کا بیڑا غرق کیا لیکن فوج کا اس میں قصور نہیں۔

اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف انتخابی مہم چلانے کے لیے نکلا ہے بتائیں 16 ماہ تک کن ریلو کٹوں کی حکومت تھی؟ 16 ماہ میں معیشت کا بیڑا غرق کر دیا گیا، 15 لاکھ پروفیشنل ملک چھوڑ کر چلے گئے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی خسارہ تھا جو یہ چھوڑ کر گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت نے گروتھ ریٹ 6 اعشاریہ 7 فیصد پر چھوڑا جو انہوں نے صفر کر دیا، ہمارے دور میں مہنگائی 12 اعشاریہ چار فیصد تک گئی جو یہ 38 فیصد تک لے گئے، ہمارے دور میں دہشت گردی نیچے آئی ، افغان صدر اشرف غنی کی حکومت سے ہمارے اچھے تعلقات تھے لیکن ن لیگ حکومت نے آکر افغانستان سے بھی تعلقات تباہ کر دیے ان کی فارن پالیسی کی وجہ سے پاکستان تنہا ہو گیا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ایران نے پاکستان میں حملہ کرکے غلط کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ایران کا دشمن اسرائیل کوشش کرے گا کہ ہمارے تعلقات خراب ہوں پاکستان کی معیشت اس وقت بیٹھی ہوئی ہے ان حالات میں ہمیں تنازعات میں نہیں پڑنا چاہیے ہم سایوں کو بدل نہیں سکتے، ہم نے ہندوستان سے بھی دوستی کی پوری کوشش کی تھی افغانیوں کو نکال کر ہم نے نفرت کو بڑھایا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بندوقوں سے مسائل حل نہیں ہوتے سیاسی حکومت سیاسی حل ڈھونڈتی ہے اور تمام مسائل کا حل صاف اور شفاف انتخابات ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار لوگ شہید کروائے ہمیں لانے سے پہلے کمزور کیا گیا تاکہ کنٹرول کیا جا سکے۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ریلو کٹوں کی کھچڑی کا مقصد کنٹرول پارلیمنٹ بنانا ہے 19 مارچ سے کہہ رہا ہوں کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے علاوہ کوئی حل نہیں میں نے حکومت بناکر غلطی کی مجھے دوبارہ الیکشن میں جانا چاہیے تھا میں جنرل (ر) قمر باجوہ کی میٹھی باتوں میں آگیا تھا جنرل (ر) باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینا میری دوسری غلطی تھی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحادی حکومت سے بہتر ہوگا کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گندے الیکشن سے ملک میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا اقتصادی خسارے کی کمی اور قانون کی بالادستی کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اعظم خان نے عدالت میں سچ بولا ہے اعظم خان کو سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنے کے لیے 140 دن پاس رکھا گیا سائفر کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور کیبنٹ کے سامنے رکھا گیا تھا نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سائفر کی مذمت کی تھی، سائفر دفتر خارجہ میں موجود رہتا ہے صرف اس کا مفہوم دیا جاتا ہے اور نو اپریل کی کابینہ میٹنگ میں سائفر کو ڈی کلاسیفائی کردیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوج ہماری فوج ہے 90 فیصد فوجی پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے، باجوہ نے ایوان صدر ملاقات میں کہا کہ ساری فوج تمہارے ساتھ ہے باجوہ کے فیصلوں نے پاکستان کا بیڑا غرق کیا لیکن فوج کا اس میں قصور نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی آدمی ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار ہوتا ہے پی ڈی ایم سے بھی ہماری کمیٹی نے انتخابات کے حوالے سے بات چیت کی تھی پی ڈی ایم نے کہا تھا کہ جسٹس بندیال کے ہوتے ہوئے الیکشن نہیں کروائے جا سکتے کسی کو اندازہ نہیں کہ اٹھ فروری کو کیا ہونے والا ہے۔

سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ میں کسی مارشل لاء کی نرسری میں نہیں پلا، ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے ہر روز عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے آٹھ فروری کو لوگ اپنا غصہ نکالیں گے اور ان کو بڑا دھچکا لگے گا، جج ہمایوں دلاور کا میچ فکس تھا اس کا دیا گیا فیصلہ معطل ہوگیا پھر بھی مجھے نااہل کر دیا گیا۔