ناسا کا 7 برس میں چاند پر نئی بیس تعمیر کرنے کا اعلان

واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند اور مریخ کے حوالے سے اپنے نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

ویسے تو ناسا کی جانب سے کافی عرصے سے چاند پر خلا بازوں کے قیام اور دیگر سرگرمیوں کے لیے مستقل عمارت کی تعمیر پر بات کی جا رہی ہے مگر اب پہلی بار بتایا گیا کہ ایسا کب تک ممکن ہوگا۔

ایک ایونٹ کے دوران ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے بتایا کہ چاند پر ہماری بیس راتوں رات تیار نہیں ہوگی بلکہ اگلے 7 برسوں میں ہم 20 ارب ڈالرز کاری کریں گے اور اس بیس کی تعمیر درجنوں مشنز کے ذریعے ممکن ہوگی۔

انہوں نے چند دیگر منصوبوں کا اعلان بھی کیا جس میں سب سے اہم مریخ کے لیے جوہری پاور پر پرواز کرنے والے اسپیس کرافٹ کی تیاری ہے جسے وہ 2028 تک بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جیراڈ آئزک مین نے کہا کہ ہم نے چاند کے مدار میں اسپیس اسٹیشن کی تعمیر کے منصوبوں کو ختم کر دیا ہے۔

کسی سیارچے سے زمین کو بچانے کیلئے ناسا کا حیران کن تجربہ کامیاب

انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے خلائی تسخیر میں کافی تیزی سے پیشرفت کی جا رہی ہے اور وہ خلا میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کا خواہشمند ہے۔

انہوں نے چاند پر 20 ارب ڈالرز سے تعمیر کی جانے والی بیس کے حوالے سے بتایا کہ اس سے قبل 1960 کی دہائی میں ناسا نے ناممکن کو مکن بنایا اور اب ہم ایک بار پھر ایسا اس نئی بیس سے ممکن بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریخ کے لیے جوہری پاور پر پرواز کرنے والے اسپیس ری ایکٹر 1 فریڈم کو 2028 تک روانہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

جیراڈ آئزک مین کے مطابق یہ اسپیس کرافٹ جب مریخ پر پہنچے گا تو اس سیارے کے راز جاننے کے لیے ہیلی کاپٹرز کو وہاں چھوڑے گا۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ چاند کی سطح پر خلا بازوں کی واپسی کچھ تاخیر کا شکار ہے کیونکہ اسپیس ایکس اب تک ناسا کے لیے لینڈرز تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مزید خبریں