منگل,  24 فروری 2026ء
میٹا کمپنی بچوں کو آن لائن شکاریوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام، دستاویزات میں ہولناک انکشاف

نیو میکسیکو (روشن پاکستان نیوز) امریکی ریاست نیو میکسیکو نے میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کر کے قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا۔ ریاست کے محکمہ انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک بازار بنا دیا ہے، جہاں شکاری بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

محکمہ انصاف کے مطابق خفیہ تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ میٹا کمپنی بچوں کو آن لائن شکاریوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ میٹا کمپنی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹس پر بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرے۔

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق مقدمے میں میٹا اور ایپل کو بچوں کی حفاظت اور رازداری کے بارے میں سنگین سوالات کا سامنا ہے، اور ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کا بچوں کی حفاظت سے متعلق ریکارڈ اس وقت سخت جانچ پڑتال کے دائرے میں ہے۔

اس ہفتے نیو میکسیکو، کیلیفورنیا اور ویسٹ ورجینیا میں جاری قانونی کارروائیوں کے دوران، میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور ایپل کے سی ای او ٹم کوک کو رازداری، اظہارِ رائے کی آزادی اور حفاظت جیسے معاملات پر سوالات کا سامنا ہے، حالاں کہ یہ وہ مسائل ہیں جنھیں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں ہر نئی فیچر ریلیز کے وقت مدنظر رکھتی ہیں۔

اگر ان کمپنیوں کو اپنے اپنے مقدمات میں ذمہ دار قرار دے دیا گیا تو عدالتیں اربوں صارفین کو متاثر کرنے والی مصنوعات میں غیر معمولی تبدیلیوں کا حکم دے سکتی ہیں۔

واٹس ایپ کا نیا فیچر جو حیرت انگیز طور پر اب تک اس سروس میں موجود نہیں تھا

بدھ کے روز لاس اینجلس کی ایک عدالت میں زکربرگ نے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا، جہاں وکلا نے ان پر دباؤ ڈالا کہ انھوں نے انسٹاگرام پر بیوٹی فلٹرز کی اجازت کیوں دی اور کمپنی کے کاروبار کو بڑھانے کی کوششوں نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کے خدشات کو پسِ پشت ڈالا۔

ہولناک انکشاف
نیو میکسیکو میں جاری مقدمے کے دوران سامنے آنے والے اندرونی میسجز سے پتا چلتا ہے کہ میٹا کے ملازمین ہر سال تقریباً 75 لاکھ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق رپورٹس پر بات کر رہے تھے۔ انھیں تشویش تھی کہ 2019 میں مارک زکربرگ کے اس فیصلے کے بعد، جس کے تحت فیس بک میسنجر میں ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن نافذ کی گئی، یہ رپورٹس ظاہر نہیں ہو سکیں گی۔

یہ تفصیلات اس قانونی دستاویز سے سامنے آئیں جو نیو میکسیکو ریاست نے عدالت میں جمع کرائی اور جسے حال ہی میں عام کر دیا گیا ہے۔ 14 دسمبر 2023 کے ایک پیغام میں ایک ملازم نے لکھا کہ اگلے سال کمیونٹی اسٹینڈرڈز انفورسمنٹ رپورٹ (CSER) کے اعداد و شمار ختم ہو جائیں گے۔ اسی مہینے میٹا نے اپنے بلاگ میں اعلان کیا تھا کہ وہ میسنجر اور فیس بک پر ذاتی پیغامات اور کالز کے لیے ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن نافذ کر رہا ہے۔

دستاویز کے مطابق اسی ملازم نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کمپنی نے مسائل کو چھپانے کے لیے ان پر پردہ ڈال دیا ہو، اور اب بچوں کے استحصال سے متعلق کم رپورٹس بھیجی جا رہی ہیں۔ ملازم نے کہا گویا کمپنی نے ’’پتھروں کو ڈھانپنے کے لیے ایک بڑا قالین بچھا دیا ہو۔‘‘

ایپل پر مقدمہ
ویسٹ ورجینیا نے آئی فون بنانے والی کمپنی کے خلاف بچوں کے جنسی استحصال کے مواد (CSAM) سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر مقدمہ دائر کیا۔ نیو میکسیکو میں اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کی ابتدائی سماعت 9 فروری کو شروع ہوئی۔ زکربرگ سے توقع نہیں کی جا رہی کہ وہ اس مقدمے کے دوران گواہی دیں گے۔

ٹوریز کا الزام ہے کہ میٹا آن لائن شکاریوں سے انسٹاگرام اور فیس بک جیسی ایپس کو مناسب طور پر محفوظ رکھنے میں ناکام رہی اور اس نے اپنے پلیٹ فارم کی مجموعی حفاظت کے بارے میں گمراہ کن بیانات دیے۔

قانونی دستاویز میں وکلا نے کہا میٹا جانتی تھی کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن اس کے پلیٹ فارمز کو کم محفوظ بنا دے گی کیوں کہ اس سے بچوں کے جنسی استحصال اور استحصالی تصاویر کی درخواست اور ترسیل کو، جو خفیہ پیغامات میں بھیجی جاتی ہیں، شناخت اور رپورٹ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ میٹا کو یہ بھی علم تھا کہ اس کے حفاظتی اقدامات ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔

انکرپشن کا مسئلہ
اگرچہ رازداری کے حامیوں نے اس بات کی تعریف کی ہے کہ انکرپشن پیغامات کو اس طرح خفیہ بنا دیتی ہے کہ تیسرے فریق افراد لوگوں کی گفتگو تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے، لیکن قانون نافذ کرنے والے مختلف اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس سے بعض جرائم کی تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

جون 2019 کی ایک اور اندرونی دستاویز میں کہا گیا تھا ’’جب ہمارے سیکیورٹی سسٹمز خود پیغامات نہیں دیکھ سکیں گے تو ہم میسنجر پر موجود ممکنہ نقصانات میں سے وہ سب کبھی نہیں ڈھونڈ پائیں گے جو آج تلاش کر لیتے ہیں۔‘‘

عدالتی درخواست میں وکلا نے لکھا کہ فیس بک میسنجر پر انکرپشن کی تکمیل کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حتیٰ کہ کمپنی کے اپنے ملازمین کے خدشات درست ثابت ہوئے۔

مزید خبریں