کراچی (روشن پاکستان نیوز) اگر آپ اپنا موبائل فون بیچنے کسی کو دینے یا اس کی مرمت کو سوچ رہے ہیں تو اس سے قبل یہ اہم کام ضرور کر لیں۔
آج کے دور میں شاید ہی کوئی گھرانہ ایسا ہو، جہاں اسمارٹ فون نہ ہو۔ اسمارٹ فون اب رابطوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس میں صارفین کی ذاتی معلومات تصاویر، ویڈیوز، اکاؤنٹس کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔
تاہم اکثر لوگ موبائل کے نئے ماڈلز خریدنے کے لیے اپنا پرانا موبائل فروخت یا کسی کو ایسے ہی استعمال کے لیے دے دیتے ہیں یا خرابی کی صورت میں موبائل شاپ یا فرنچائز پر مرمت کے لیے دیتے ہیں تو ان کے ذاتی ڈیٹا کے افشا ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔
کیا آپ اپنا موبائل فون بیچنے، دینے یا اس کی مرمت کا سوچ رہے ہیں؟ تو رکیں اور اپنی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے یہ یہ اقدامات لازمی اٹھائیں۔
اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) نے ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔
کراچی کسٹمزنے استعمال شدہ موبائل فونزکی درآمد کیلئے نئی ویلیوایشن جاری کردی
سب سے پہلے اپنے موبائل فون کی فیکٹری ری سیٹ کریں، لیکن یہ کافی نہیں۔ کیونکہ ری سیٹ کرنے سے ڈیٹا تو ڈیلیٹ ہو جاتا ہے لیکن جدید سافٹ ویئر کے ذریعہ یہ دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے اب اِنکرپشن کو چیک کریں۔ اور ری سیٹ کرنے سے قبل اس بات کی تصدیق کر لیں کہ فون مکمل طور پر ’’اِن کرپٹڈ‘‘ (محفوظ شدہ) ہے یا نہیں؟
اس کے لیے سب سے پہلے فون کی سیٹنگز میں جائیں اور اس کے بعد چیٹ کو منتخب کریں۔ پھر چیٹ بیک اپ کو کلک کریں اور اینڈ ٹو اینڈ اِنکرپشن کا آپشن منتخب کرنے کے بعد ڈیٹا کو اوور رائٹ کر دیں۔
ری سیٹ کرنے کے بعد کچھ فالتو تصاویر یا ویڈیوز فون میں منتقل کریں اور پھر دوبارہ ری سیٹ کریں تاکہ پچھلا ڈیٹا مکمل طور پر ختم ہو جائے۔
اس کے بعد تمام اکاؤنٹس حذف کریں۔ گوگل، ایپل آئی ڈی، سیم سنگ یا سونی آئی ڈی جیسے تمام اکاؤنٹس کو ہٹا دیں ورنہ نیا صارف فون استعمال نہیں کر سکے گا۔
تاہم ان سب سے قبل بیک اپ ضرور لیں۔ اپنا ڈیٹا گوگل ڈرائیو، آئی کلاؤڈ، میموری کارڈ یا کمپیوٹر پر محفوظ کر لیں۔ اس کے بعد سم کارڈ اور میموری کارڈ نکال لیں، تاکہ آپ کا نمبر یا ذاتی ڈیٹا کسی اور کے ہاتھ نہ لگے۔ کیونکہ آپ کی معلومات آپ کی ذمہ داری ہیں۔
یہ اقدامات آپ کو ان چیزوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
1۔ پرائیویسی کا افشا ہونا
2۔ شناخت کی چوری
3۔ ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال۔











