بیجنگ(روشن پاکستان نیوز) چینی حکام نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنا پر ملکی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی تقریباً بارہ سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کے سافٹ ویئر کا استعمال بند کر دیں۔
چین کا ماننا ہے کہ یہ سافٹ ویئر حساس اور خفیہ معلومات جمع کرکے بیرون ملک منتقل کر سکتے ہیں، اس لیے وہ مغربی ٹیکنالوجی کے بجائے اپنے مقامی متبادل کو ترجیح دے رہا ہے۔
پابندی کا اطلاق امریکی کمپنیوں جیسے براڈکام کی ملکیت وی ایم ویئر (VMware)، پالو آلٹو نیٹ ورکس اور فورٹینیٹ کے سافٹ ویئر پر کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی کمپنی چیک پوائنٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
اس فیصلے کے بعد امریکی کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی، جہاں براڈکام اور پالو آلٹو نیٹ ورکس کے حصص میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی، اور فورٹینیٹ کے شیئرز تقریباً تین فیصد گر گئے۔
چین نے بجلی بنانے کا نیا طریقہ ایجاد کرلیا
چینی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ مغربی ٹیکنالوجی کو غیر ملکی طاقتیں ہیک کر سکتی ہیں، اسی لیے چین سائبر سیکیورٹی، کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب گامزن ہے۔
چین کی بڑی مقامی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں میں 360 سیکیورٹی ٹیکنالوجی اور نیوسافٹ شامل ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ نے کچھ شرائط کے تحت اینویڈیا (Nvidia) کو چین میں جدید مصنوعی ذہانت (AI) چپس کی فروخت کی اجازت دی ہے۔
امریکی محکمہ تجارت کے مطابق اینویڈیا مخصوص حالات میں اپنا H200 چپ چین کو فروخت کر سکے گی، تاہم جدید ترین پروسیسرز پر پابندی برقرار رہے گی۔ چینی حکومت مقامی سطح پر تیار کردہ AI چپس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جس کے باعث اینویڈیا کی چپس کی طلب کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔











