اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں واٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس پر قومی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ملک بھر میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔
نیشنل سرٹ کے مطابق سائبر مجرم جعلی کالز، فیک لنکس، ون ٹائم پاس ورڈز (او ٹی پی) اور کیو آر کوڈز کے ذریعے صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس پر قبضہ کر رہے ہیں۔
نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کا دائرہ صرف عام صارفین تک محدود نہیں بلکہ کاروباری اور دفتری واٹس ایپ اکاؤنٹس بھی شدید خطرے میں ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران 12 روزہ جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے، آرمی چیف امیرحاتمی
سائبر حملہ آور خود کو واٹس ایپ سپورٹ، ٹیلی کام کمپنیوں کے اہلکار یا صارف کے جاننے والے ظاہر کرکے دھوکہ دیتے ہیں اور حساس معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔
الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکاؤنٹ ہائی جیک ہونے کے بعد حملہ آور صارف کی شناخت استعمال کرتے ہوئے فراڈ، جعلی پیغامات اور پیسے بٹورنے جیسے جرائم انجام دے رہے ہیں۔
مشکوک لاگ آؤٹ، انجان لنکڈ ڈیوائسزاوربغیر مانگے او ٹی پی موصول ہونا اکاؤنٹ ہائی جیک ہونے کی نمایاں علامات ہیں۔
قومی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ واٹس ایپ کا کوڈ، پن یا کیوآرکوڈ کسی کو بھی فراہم نہ کریں۔ نیشنل سرٹ نے اکاؤنٹ کے تحفظ کیلئے ٹواسٹیپ ویریفکیشن اورریکوری ای میل کو لازمی قرار دیا ہے۔
متاثرہ صارفین کو فوری طور پرواٹس ایپ ری انسٹال کرکے اپنا نمبردوبارہ ویریفائی کرنے اورمشکوک سرگرمی فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔











