جمعرات,  08 جنوری 2026ء
کل پیوٹن بھی یوکرین کے صدر کو اس طرح اغوا کر کے ماسکو لے جا سکتے ہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ امریکا کی وینزویلا میں کارروائی نے پنڈورا بکس کھول دیا ہے، کل پیوٹن بھی یوکرین کے صدر کو اس طرح اغوا کرکے ماسکو لے جا سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا سے متعلق پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا ہے، اگرچہ اس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اگر وینزویلا میں کسی کارروائی کو درست قرار دیا جائے تو پھر روس کی یوکرین میں کارروائی کو غلط کہنا بھی مشکل ہو جائے گا، اس طرح کے دوہرے معیارات عالمی نظام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وزیرِ دفاع نے سوال اٹھایا کہ اگر آج وینزویلا کی کارروائی کو جائز سمجھا جائے تو کل چین کو تائیوان پر قبضے سے کس طرح روکا جا سکے گا؟ اسی طرح روسی صدر پیوٹن بھی یوکرین کے صدر کو اغوا کر کے ماسکو لے جا سکتے ہیں، جس سے عالمی قانون کی حیثیت مزید کمزور ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا، شام اور دیگر ممالک میں بھی اسی طرز کی کارروائیاں ہو چکی ہیں، اور ان اقدامات نے ورلڈ آرڈر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

مزید پڑھیں: نوبل انعام کے دعویدار ٹرمپ نے 2025 میں کتنے ممالک پر بمباری کی؟

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے وینزویلا میں کارروائی نے ایک پنڈورا بکس کھول دیا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران میں کسی قسم کی کارروائی کی تو یہ پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 2012 سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے، مگر اس کے باوجود کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔

فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو انسانیت کا بدترین مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت دنیا کا سب سے مطلوب شخص ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر امریکا واقعی انسانیت کا دوست ہے تو اسے نیتن یاہو کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنا چاہیے، یورپ نے ماضی میں بڑے لیڈر پیدا کیے، مگر اس وقت یورپی قیادت کی خاموشی افسوسناک ہے۔

مزید خبریں