جمعرات,  08 جنوری 2026ء
کیا موبائل فون ہاتھ میں نہ ہو تو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) کیا موبائل فون ہاتھ میں نہ ہو تو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے؟ ماہرینِ صحت نے اس بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسئلے، جسے ’نوموفوبیا‘ کہا جاتا ہے، پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسکول بس کی اطلاعات ہوں یا رات گئے دفتری پیغامات، اسمارٹ فون اب روزمرہ زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔ موبائل فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ کام، خاندان سے جُڑے رہنے، تحفظ اور سماجی تعلقات کے لیے ایک بنیادی ضرورت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق موبائل فون سے دوری پر بے چینی یا خوف محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ذہنی کیفیت ہو سکتی ہے۔ طبی زبان میں اسے ’نوموفوبیا‘ کہا جاتا ہے، جس سے مراد موبائل فون کے بغیر رہنے پر شدید اضطراب یا خوف کا شکار ہونا ہے۔

انٹرنیشنل جرنل آف ریسرچ اسٹڈیز اِن ایجوکیشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں تقریباً 94 فیصد موبائل صارفین کسی نہ کسی حد تک نوموفوبیا میں مبتلا ہیں۔

مزید پڑھیں: بابا وانگا کی موبائل فون سے متعلق پیشگوئی جو آج حقیقت بن گئی

اگرچہ یہ تحقیق امریکا تک محدود ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ خصوصاً متحدہ عرب امارات میں ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق نوموفوبیا کی علامات اکثر افراد کو خود محسوس نہیں ہوتیں، بلکہ یہ خاموش انداز میں ظاہر ہوتی ہیں، جن میں نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، بے چینی، توجہ کی کمی اور ذہنی دباؤ شامل ہیں، خاص طور پر اس وقت جب موبائل فون قریب موجود نہ ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض عموماً نوموفوبیا کی شکایت لے کر نہیں آتے، لیکن نیند میں خلل، موڈ میں تبدیلی اور روزمرہ کارکردگی میں کمی جیسے مسائل نمایاں ہوتے ہیں۔ یو اے ای میں طلبہ اور نوجوانوں پر کی گئی مختلف تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال، خراب نیند اور ذہنی دباؤ کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ موبائل فون کا استعمال نہیں بلکہ توازن اور خود پر قابو کا فقدان ہے۔ جب موبائل فون کے بغیر رہنا مسلسل بے چینی، تعلقات میں تناؤ یا تعلیم و کام پر منفی اثر ڈالنے لگے تو یہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔

نوموفوبیا کی نمایاں علامات میں موبائل سے دوری پر شدید گھبراہٹ، استعمال کم کرنے میں بار بار ناکامی، نیند کی خرابی، گھر والوں سے جذباتی دوری اور گھریلو تنازعات شامل ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آہستہ آہستہ کی جانے والی عملی تبدیلیاں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، جیسے رات کے وقت موبائل فون کو بیڈروم سے باہر رکھنا، اسکرین سے دور رہنے کا دورانیہ بتدریج بڑھانا اور غیر ضروری نوٹیفکیشنز محدود کرنا۔ اگرچہ نوموفوبیا کو تاحال باضابطہ ذہنی بیماری تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم کلینکس میں اس کی اسکریننگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

موبائل فون سے دوری پر تیز دل کی دھڑکن، پسینہ آنا، کپکپی، گھبراہٹ اور سانس کی بے ترتیبی جیسی جسمانی علامات بھی اب عام ہوتی جا رہی ہیں۔

مزید خبریں