اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز): کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ) نے تحریک آزادی کشمیر کے سینئر رہنما سید منظور احمد شاہ کی گرفتاری پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔
جاری بیان کے مطابق 7 اپریل کو سید منظور احمد شاہ اڈیالہ روڈ پر واقع حریت کانفرنس کے سابق کنوینر سید یوسف نسیم کی عیادت کے لیے جا رہے تھے، جہاں ایک سیاسی جماعت کے کارکنان کی جانب سے احتجاج جاری تھا۔ اسی دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی، اور سید منظور احمد شاہ کو موقع پر موجود ہونے کے باعث حراست میں لے لیا گیا۔
حریت کانفرنس نے وضاحت کی ہے کہ سید منظور احمد شاہ کا کسی بھی پاکستانی سیاسی جماعت، بشمول پاکستان تحریک انصاف، سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ایک کشمیری حریت پسند رہنما کے طور پر حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سید منظور احمد شاہ نے پولیس کو اپنی غیر وابستگی سے آگاہ کیا، تاہم اس کے باوجود انہیں گرفتار کر لیا گیا، جو کہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سید منظور احمد شاہ کو فوری اور باعزت طور پر رہا کیا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ بیان حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ کی جانب سے جاری کیا گیا۔










