منگل,  07 اپریل 2026ء
منقسم کشمیری خاندانوں کا کرب: ماں کے جنازے میں شرکت سے محروم بیٹا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) منقسم کشمیری خاندانوں کی دردناک داستانیں آج بھی جاری ہیں، جہاں سرحدوں کی بندش اور سفری پابندیوں نے ہزاروں خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر رکھا ہے۔ 1990 کی دہائی میں آزادیٔ کشمیر کے خواب کے تحت جان ہتھیلی پر رکھ کر لائن آف کنٹرول عبور کرنے والے نوجوان آج بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں، مگر اپنے پیاروں سے ملنے کی آس اب بھی ادھوری ہے۔

ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ معروف کشمیری حریت رہنما الطاف بٹ کے خاندان میں پیش آیا، جن کی والدہ کا گزشتہ روز سرینگر کے علاقے باغ مہتاب میں انتقال ہو گیا۔ محدود سفری سہولیات اور سخت پابندیوں کے باعث الطاف بٹ نہ تو اپنی والدہ کا آخری دیدار کر سکے اور نہ ہی ان کے جنازے میں شرکت کر پائے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مرحومہ کے تین بیٹوں میں سے ایک کو ماضی میں بھارتی فوج نے شہید کر دیا تھا، جبکہ دوسرے بیٹے ظفر اکبر بٹ اس وقت بھارتی حراست میں ہیں اور انہیں بھی اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ یوں یہ خاندان اس کربناک صورتحال کا شکار ہوا جہاں ماں کے تینوں بیٹے اس کے آخری وقت میں اس کے پاس موجود نہ تھے۔

تعزیت کے لیے آنے والے افراد سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف بٹ نے بتایا کہ ماضی میں کبھی کبھار ان کی والدہ سے فون پر بات ہو جاتی تھی، تاہم اب اس پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے ایک جذباتی لمحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چند روز قبل خواب میں اپنی والدہ کی وفات کا اشارہ مل گیا تھا۔

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سے چیئرمین پاک میڈیا فورم سعودی عرب کی ملاقات

یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی کہانی ہے بلکہ ان ہزاروں کشمیری خاندانوں کی نمائندگی کرتا ہے جو سرحدی تقسیم اور سیاسی کشیدگی کے باعث ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات خطے میں جاری تنازع کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں بنیادی انسانی جذبات اور رشتے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

مرحومہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی جا رہی ہے، جبکہ لواحقین شدید صدمے اور غم کی کیفیت میں ہیں۔

مزید خبریں