اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) بھارت کے نام نہاد یومِ جمہوریہ کے موقع پر 26 جنوری کو کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر نے کی۔ مظاہرے میں بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا گیا۔
احتجاجی مظاہرے کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا تھا کہ بھارت جمہوریت کا علمبردار نہیں بلکہ ایک جارح اور قابض ریاست ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق پامال کر رہی ہے۔ مظاہرین نے سیاہ جھنڈے، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی فوجی قبضے کے خلاف اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے “بھارتی نام نہاد جمہوریت ہائے ہائے”، “ہم کیا چاہتے؟ آزادی”، “یہ حق ہمارا آزادی”، “بھارت سے لیں گے آزادی” اور “Go Indian Go Back” جیسے نعرے لگائے جن سے اسلام آباد کی فضا گونج اٹھی۔
تفصیلات کے مطابق احتجاجی مظاہرے کی قیادت کنوینئر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کی۔ مظاہرین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور بھارتی فوجی قبضے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری عوام ہر سال 26 جنوری کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے اور یہ حقیقت اجاگر کی جا سکے کہ بھارت نہ تو جمہوری ریاست ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کا احترام کرنے والا ملک۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت نے طاقت کے زور پر سوا کروڑ سے زائد کشمیریوں کی آزادی سلب کر رکھی ہے اور انہیں ان کے بنیادی، سیاسی، مذہبی اور سماجی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی گاڑی پر حملہ، 10 ہلاک، 7 زخمی
مقررین نے مزید کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے ریاست جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے جہاں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اجتماعی سزائیں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مسئلہ کشمیر خود بھارت اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا تھا اور کشمیری عوام سے حقِ خودارادیت کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر 78 برس گزرنے کے باوجود اس وعدے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
اپنے صدارتی خطاب میں محمود احمد ساغر نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کا مخلص دوست ہے اور ان کی جدوجہدِ آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر مؤثر انداز میں اجاگر کر رہا ہے، جبکہ بھارت کشمیری سرزمین پر زبردستی قبضہ برقرار رکھ کر اسے اپنا نام نہاد اٹوٹ انگ قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
محمود احمد ساغر نے کہا کہ اگر مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسے دیرینہ تنازعات عالمی برادری کی سنجیدہ مداخلت سے حل ہو سکتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کیوں حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہ ہونے کی صورت میں جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کا خطرہ بدستور موجود رہے گا، جس کے تباہ کن اثرات پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مظاہرے میں سینئر حریت رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں سید فیض نقشبندی، سید یوسف نسیم، میر طاہر مسعود، الطاف حسین وانی، میڈم شمیم شال، سید اعجاز رحمانی، داؤد خان، حسن البنا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لبریشن سیل سوار خان اور دیگر شامل تھے، جبکہ میڈیا نمائندگان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کرتے رہیں گے اور بھارتی قبضے کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔











