اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)بھارتی تہاڑ جیل میں گذشتہ سات سال سے غیر قانونی طور پر پابند سلاسل جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے علیل چیئرمین محمد یاسین ملک نے گذشتہ ہفتے باوثوق اور با اعتماد ذرائع سے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے اپنے قریب ترین ساتھیوں محمد رفیق ڈار، سلیم ہارون اور سید الطاف حسین قادری کی وساطت سے پارٹی قیادت و کارکنان کے علاوہ سیز فائر لائن کے دونوں اطراف سے ریاست جموں کشمیر کی عوام اور دنیا بھر میں پھیلے کشمیریوں کے لئے اپنا پیغام بھیجا ہے، اس بات کا انکشاف جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائدین محمد رفیق ڈار، سید الطاف حسین قادری اور سلیم ہارون نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،قائدین کے مطابق محمد یاسین ملک نے بھارتی تہاڑ جیل سے باضابطہ طور پر بھیجے گئے اپنی نوعیت کے پہلے اور واضح پیغام میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم بھارت کی موجودہ مرکزی حکومت کی ایماء پر این آئی اے سمیت دیگر بھارتی تحقیقاتی و خفیہ ادارے میرے خلاف سیاسی عناد پر مبنی دائر کردہ مقدمات میں مجھے متعصبانہ عدالتی فیصلے کا شکار بنانے پر کمربستہ ہیں، جس کی انجام دہی میں وہ ہر غیر قانونی و غیر اخلاقی حربہ استعمال کرتے ہوئے غیر منصفانہ عدالتی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیںاور امکان ہےکہ یہ کاروائیاں پھانسی کی سزا سنانے پر منتج ہوں گی،محبوس چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک نے اپنے پیغام میں کہا کہ 22 فروری 2019 کو میری گرفتاری سے لے کر 25 مئی 2022 کو نئی دہلی میں خصوصی عدالت کے زریعے مجھے عمر قید کی سزا سنائے جانے تک اور اب پھانسی کے لئے منصوبہ بند سازش کے تحت تسلسل کے ساتھ جاری یکطرفہ عدالتی کاروائیاں جاری ہیں جبکہ میں اپنے اوپر عائمہ جملہ بے جا الزامات کی اصل حقیقت گذشتہ سال ماہ اکتوبر میں عدالت کو پیش کردہ اپنے تفصیلی تحریری بیان سے قبل کئی بار خصوصی عدالت اور تحقیقاتی اداروں کے سامنے ثبوتوں کے ساتھ زبانی بھی بیان کر چکا ہوں،یاسین ملک نے کہا کہ فریقین کے درمیان موجود گہرا باہمی عدم اعتماد، انتہاء پسندی و سخت گیریت، طاقت کا نشہ، سفارتی و افسر شاہی داو بیچ اور ہر دو اطراف سے نہ تھمنے والی سازشی و خود کو تباہ کرنے والی کاروائیوں کے علاوہ بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی و عدم دلچسپی اور کشمیریوں کی اپنی نا اتفاقی و غلط طرز عمل مسئلہ جموں کشمیر پر ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا سبب ہے۔ انہوں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کے آبرومندانہ اور منصفانہ حل کے لئے جملہ فریقین (ہند و پاک اور کشمیری) کے درمیان سنجیدہ اور نتیجہ خیز مزاکرات کی بحالی از بس ضروری ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کے حصول میں ریاست جموں کشمیر دوستی کے پل کا کردار ادا کر سکے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ گواہ ھے کہ کشمیری قوم کا کوئی جنگجوانہ پس منظر نہیں ھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قوم نے ریاست پر کسی بھی بیرونی طاقت کے ناجائز قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف دل سے بھرپور نفرت اور اپنے ہی مقامی انداز میں جارحانہ نہ سہی لیکن کسی نہ کسی سطح پر مزاحمت جاری رکھی جو قابضین کے انخلاء کے ساتھ بالآخر کامیابیوں میں تبدیل ہوتی رہیں۔یاسین ملک نے اپنے تینوں قریبی ساتھیوں محمد رفیق ڈار، سلیم ہارون اور الطاف قادری کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میں بابائے قوم شہید محمدمقبول بٹ شہید اشفاق مجید وانی اور شہید شیخ عبدالحمید سمیت جملہ شہدائے جوں کشمیر کے راستے پر گامزن ہوں اور سمجھتاہوں کہ بے مثال قربانیوں سے لبریز اس تحریک کو قومی آزادی سے ہمکنار کرنا اب جملہ آزادی پسند ساتھیوں بالخصوص جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سے وابستہ میرے جملہ رفقائے کار کی ذمہ داری ہے۔انہوں اپنے پیغام میں اُن جملہ احباب کی کاوشوں کاشکریہ ادا کیا جو مجھ سمیت دیگر آزادی پسند کشمیری اسیران کی آواز بن رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یاسین ملک نے اپنے پیغام میں خصوصی طور پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کو یکجا کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا، اس ضمن میں گذشتہ روز جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی اعلی قیادت کا ایک ہنگای اجلاس پارٹی کے سنٹرل انفارمیشن آفس میں منعقد ہوا جس میں یاسین ملک صاحب کے مقدمے کی تازہ صورتحال اور اُن کے پیغام پر غور و خوض ہوا۔اجلاس میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر اور پاکستان نیشنل اسمبلی کے سپیکر سے اپنی اپنی اسمبلیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ یاسین ملک کا مسلہ زیر بحث لاکر مشترکہ قرار داد منظور ہو۔علاوہ ازیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے سیاسی و سفارتی مہم کو تیز تر کرتے ہوئے ہند و پاک کی سول سوسائٹی بالخصوص سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے علاوہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کی طرف فوری طور پر مخطوط روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس کے انتقام پر شرکاء نے 1990ء کے گاؤ کدل قتل عام کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ 11 فروری کو بابائے قوم محمد مقبول بٹ کا 42 واں یوم شہادت ملی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس روز اندرون و بیرون ریاست جموں کشمیر احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور سیمینار منعقد کیے جائیں گے جن میں بھارت سے مقبول بٹ شہید اور افضل گورو شہید کی باقیات کشمیریوں کو واپس کرنے کا مطالبہ دہرایا جائے گا۔











