اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کے شکار اکثر افراد کو اس سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی علامات عموماً اسی وقت ظاہر ہوتی ہیں جب اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ چکی ہو۔
ہائی بلڈ پریشر سے ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
صحت کے لیے فائدہ مند طرز زندگی سے اس بیماری کا شکار ہونے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ ایک عام پھل کھانے سے آپ ہائی بلڈ پریشر سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ جسم کے اندر سوڈیم (نمکیات) اور پوٹاشیم کے توازن کو درست رکھیں جس سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔
سوڈیم بلڈ پریشر پر اثر انداز ہوتا ہے
دہائیوں سے اس حوالے سے تحقیقی کام ہو رہا ہے جس میں زیادہ نمک کے استعمال اور ہائی بلڈ پریشر، قبل از وقت موت اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے درمیان تعلق ثابت ہوا ہے۔
مگر نمک کا استعمال ترک کرنا بھی صحت کے لیے مفید نہیں ہوتا۔
ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ نمک کا محدود اور پوٹاشیم کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق ڈیٹا سے ثابت ہوا ہے کہ نمک سے دوری کوئی حل نہیں بلکہ متوازن سوچ ضروری ہے۔
جسم کے اندر نمک کی زیادہ مقدار خون میں موجود پانی کو کھینچ لیتا ہے جس سے بلڈ پریشر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔
پمز کی نگرانی کیلئے وزیر صحت نے اہم فیصلہ کرلیا
جب آپ پوٹاشیم کی زیادہ مقدار کا استعمال کرتے ہیں تو نمکیات کی زیادہ مقدار پیشاب کے راستے خارج ہوتی ہے اور بلڈ پریشر بڑھنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
پوٹاشیم سے خون کی شریانوں کو بھی سکون ملتا ہے جو کہ بلڈ پریشر کو کم رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
روزانہ کتنی مقدار میں پوٹاشیم کی ضرورت ہوتی ہے؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ہائی بلڈ پریشر گائیڈلائنز کے مطابق روزانہ 3500 سے 5 ہزار ملی گرام پوٹاشیم کو جزوبدن بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ نمک کی مقدار 1500 ملی گرام سے کم ہونی چاہیے۔
ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نمک کے کم جبکہ پوٹاشیم کے زیادہ استعمال سے دل کی صحت اور بلڈ پریشر کو فائدہ ہوتا ہے۔
پوٹاشیم کا حصول کیسے ممکن ہے؟
آپ پوٹاشیم کو پھلوں جیسے کیلوں، کھجوروں اور خربوزوں سے حاصل کرسکتے ہیں۔
ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ نمک کی کم مقدار استعمال کرنے سے زیادہ غذا میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
کیلے، شکر قندی، پالک اور متعدد دیگر غذاؤں کے ذریعے پوٹاشیم کو جسم کا حصہ بنانا ممکن ہے۔
درحقیقت پوٹاشیم سے بھرپور غذؤں کے استعمال سے اس وقت بھی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے جب آپ زیادہ نمکین غذؤں کا استعمال کر رہے ہوں۔











