اتوار,  08 فروری 2026ء
گردے کے امراض میں خطرناک اضافہ، محفوظ رکھنے کے 10 مؤثر طریقے

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دنیا بھر میں گردے کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور یہ بیماری اب اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گردے جسم کے لیے انتہائی اہم اعضاء ہیں، جو خون کو صاف کرتے، فضلہ خارج کرتے اور جسم میں نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ تاہم بلڈ شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے گردے کی ناکامی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پنجاب میں مضر صحت انجیکشنز کے مخصوص بیچز کی فروخت پر پابندی، فوری واپسی کا حکم

عالمی تحقیق کے مطابق تقریباً 788 ملین افراد طویل عرصے تک گردے کی بیماری کا شکار ہیں، جو سال 1990 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال تقریباً 1.5 ملین افراد گردے کی ناکامی کے سبب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

گردے کو صحت مند رکھنے کے اہم طریقے:

1) بلڈ شوگر کو قابو میں رکھیں: زیادہ شوگر گردوں کی فلٹریشن صلاحیت کو کمزور کر سکتی ہے۔

2) بلڈ پریشر مستحکم رکھیں: ہائی بلڈ پریشر گردوں کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر ان کی کارکردگی متاثر کرتا ہے۔

3) ادویات کا بے جا استعمال نہ کریں: درد کش اور این ایس اے آئی ڈی (NSAIDs) دوائیں طویل استعمال پر گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

4) پروٹین کا متوازن: ضرورت سے زیادہ پروٹین گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

5) روزانہ مناسب پانی پئیں: پانی گردوں کو فضلہ خارج کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

6) نقصان دہ کیمیکلز سے بچیں: کھانے، پانی یا جلد پر لگنے والے زہریلے کیمیکلز گردوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

7) خاندانی صحت سے آگاہ رہیں: اگر خاندان میں کسی کو گردے کے امراض ہیں تو باقاعدگی سے چیک اپ کروائیں۔

8) وزن قابو میں رکھیں: زیادہ وزن گردوں پر دباؤ بڑھاتا ہے اور ذیابیطس و بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

9) باقاعدہ گردوں کی جانچ کروائیں: خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بیماری کے ابتدائی اشارے وقت پر سامنے لاتے ہیں۔

10) صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں: متوازن غذا، مناسب نیند اور روزانہ ورزش گردوں کی کارکردگی بہتر بناتی ہے۔

گردے اکثر “خاموش قاتل” کہلاتے ہیں کیونکہ ابتدائی مراحل میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ مگر یہ احتیاطی تدابیر اپنا کر آپ گردوں کی صحت برقرار رکھ سکتے ہیں اور خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

مزید خبریں