منگل,  03 فروری 2026ء
کینسر کا خطرہ کن بلڈ گروپ والوں کو زیادہ ہوتا ہے؟ ماہرین کا تشویشناک انکشاف

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اکثر لوگ خون کی قسم (بلڈ گروپ) کو صرف ہنگامی طبی ضرورت یا بلڈ ٹرانسفیوژن کی حد تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ بلڈ گروپس والے افراد میں کینسر کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

حالیہ طبی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ خون کی اقسام انسان کی مجموعی صحت، حتیٰ کہ کینسر سمیت بعض خطرناک بیماریوں کے امکانات کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

کینسر جیسے مہلک مرض کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے تناظر میں ایک نئی تحقیق نے خاص طور پر پیٹ کے کینسر اور خون کی مخصوص اقسام کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔

طبی جریدے بی ایم سی کینسر میں 2019 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بعض بلڈ گروپس کے حامل افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا ہے۔

پیٹ کا کینسر، جسے گیسٹرک کینسر بھی کہا جاتا ہے، معدے کی اندرونی تہہ میں کینسر کے خلیوں کی غیر معمولی افزائش کا نام ہے جو رفتہ رفتہ صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی میں تبدیلی، غیر متوازن خوراک اور ماحولیاتی عوامل اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خون کی قسم اے اور اے بی رکھنے والے افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔

پنجاب میں مضر صحت انجیکشنز کے مخصوص بیچز کی فروخت پر پابندی، فوری واپسی کا حکم

مطالعے کے مطابق بلڈ گروپ اے رکھنے والے افراد میں یہ خطرہ او بلڈ گروپ کے مقابلے میں تقریباً 13 سے 19فیصد زیادہ پایا گیا، جبکہ بلڈ گروپ اے بی کے حامل افراد میں یہ خطرہ 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، بعد ازاں مختلف مطالعات کے میٹا تجزیے نے بھی ان نتائج کی تصدیق کی۔

ماہرین نے اس حوالے سے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بلڈ گروپ اے رکھنے والے افراد میں ہیلی کوبیکٹر پائلوری نامی بیکٹیریا سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جو معدے کے کینسر کی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔

تاہم تحقیق کے مطابق بلڈ گروپ اے کے افراد میں یہ خطرہ اس انفیکشن کے بغیر بھی برقرار رہتا ہے جبکہ بلڈ گروپ اے بی کے افراد میں ہیلی کوبیکٹر پائلوری کی موجودگی بیماری کے امکانات مزید بڑھا دیتی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ خون کی قسم کو براہِ راست کینسر کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم مختلف بلڈ گروپس میں جسمانی سوزش پر قابو پانے، مدافعتی نظام کے ردعمل، خلیاتی رابطے اور معدے میں تیزاب کی سطح جیسے عوامل میں فرق پایا جاتا ہے جو کینسر کے خطرے کو متاثر کرسکتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ معدے کا کینسر کئی عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے، جن میں ناقص خوراک، سگریٹ نوشی، الکحل کا استعمال، موٹاپا، انفیکشن اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔

یہ بیماری ایشیا، مشرقی یورپ اور لاطینی امریکہ کے بعض حصوں میں زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ اس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ مرض خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ تشخیص ہوتا ہے۔

ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور بروقت طبی معائنہ معدے کے کینسر سمیت کئی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں