اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) نوجوانوں میں گردے کی پتھری کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کی بڑی وجہ جدید طرز زندگی اور دیگر خطرناک عادتیں ہیں۔
اس حوالے سے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی، پانی کی کمی اور غیر متوازن خوراک اس مسئلے کی سب سے بڑی وجوہات بن چکی ہیں۔ کم عمری میں ہی گردوں سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا کرنا اب ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق زیادہ نمکین، مسالے دار اور فاسٹ فوڈ کے استعمال کے ساتھ ساتھ پروٹین سے بھرپور غذا کا بے جا رجحان جسم میں نمکیات کی مقدار بڑھا دیتا ہے۔ جب پانی کم پیا جائے تو یہی نمکیات پیشاب کے ذریعے خارج ہونے کے بجائے جمع ہو کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
جہاں پہلے گردے کی پتھری زیادہ تر درمیانی عمر یا بزرگ افراد میں دیکھی جاتی تھی، وہیں اب کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اس تکلیف دہ مرض کا شکار ہورہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذمہ داری
اسپتالوں کے یورولوجی شعبوں میں نوجوان مریضوں کی تعداد میں گزشتہ برسوں کے دوران واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جسم میں پانی کی کمی پیشاب کو گاڑھا بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں کیلشیم، یورک ایسڈ اور دیگر نمکیات کرسٹل کی صورت اختیار کر کے گردے کی پتھری میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
بعض افراد میں جینیاتی رجحان، موٹاپا، میٹابولک بیماریاں اور طویل عرصے تک دردکش ادویات کا استعمال بھی اس مرض کو بڑھاوا دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم دو سے ڈھائی لیٹر پانی پینا بے حد ضروری ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو گرم علاقوں میں رہتے ہیں یا زیادہ جسمانی مشقت کرتے ہیں۔
اگر علامات کی بات کی جائے تو کمر یا پہلو میں شدید درد، متلی، قے، پیشاب کے دوران جلن، بار بار واش روم جانا اور پیشاب میں خون آنا گردے کی پتھری کی عام نشانیاں ہیں۔
بعض اوقات مرض ابتدائی مرحلے میں خاموش رہتا ہے، جس سے مریض بے خبر رہتا ہے اور پتھری وقت کے ساتھ بڑی ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ ذرا سی تکلیف یا مشتبہ علامات کی صورت میں فوراً طبی معائنہ کروایا جائے۔ الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین اور یورین ٹیسٹ کے ذریعے بروقت تشخیص ممکن ہے۔
علاج کا دارومدار پتھری کے سائز اور مقام پر ہوتا ہے۔ چھوٹی پتھریاں عموماً زیادہ پانی پینے اور دواؤں سے خود بخود خارج ہو جاتی ہیں، جبکہ بڑی پتھریوں کے لیے لیتھو ٹرپسی، اینڈوسکوپک یا سرجری کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر تشخیص گھریلو ٹوٹکوں یا غیر مستند مشوروں پر انحصار سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کسی بھی جڑی بوٹی یا دیسی نسخے کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
صحت کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ احتیاط ہی سب سے بہتر علاج ہے۔ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، نمک اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز، تازہ غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، وزن پر قابو اور وقتاً فوقتاً طبی جانچ نوجوانوں کو گردے کی پتھری جیسے تکلیف دہ مرض سے بڑی حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے۔











