هفته,  10 جنوری 2026ء
شعبہ صحت میں بہتری کے لیے انقلابی فیصلے

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ملک میں سرکاری شعبہ صحت کی حالت قابل ستائش نہیں ہے تاہم پنجاب حکومت نے بہتری لانے کے لیے انقلابی فیصلے کیے ہیں۔

ملک میں سرکاری سطح پر شعبہ صحت اور تعلیم کا معیار دیگر ممالک کی سطح کا نہیں۔ تاہم اب پنجاب حکومت نے صحت کے نظام میں بہتری اور عوام کو صحت کی اعلیٰ سہولتوں کی بر وقت فراہمی کے لیے انقلابی فیصلے کر لیے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ’’پنجاب میں ہر زندگی کی حفاظت‘‘ کے لیے اجلاس ہوا، جس میں صحت کے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

مریم نواز نے اسپتالوں میں موجود سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کیخلاف عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اسپتالوں کے سیکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز، نرسوں، فارمیسی اسٹاف کو باڈی کیم لگانے کا فیصلہ کیا جب کہ ہر سرکاری اسپتال میں روزانہ صبح 9 بجے تک مکمل اسٹیم کلیننگ کرنے کا حکم دیا۔

وزیراعلیٰ نے اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی فول پروف طریقہ کار سے دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے اسپتالوں میں ہر مریض کی دوا بروقت اس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔

اجلاس میں بہترین کارکردگی پر انعام، ایم ایس پول قائم کرنے اور صرف کارکردگی پر تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں کو جدید طبی آلات سے لیس کرنے کیلیے چینی ساختہ طبی آلات کی اجازت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیں: انجری کا شکار شاہین آفریدی کی حالت اب کیسی ہے؟ کیا ورلڈ کپ کھیل پائینگے؟

وزیراعلیٰ پنجاب نے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو اسپتال سروے کی ذمہ داری سونپنے پر اتفاق کرتے ہوئے شعبہ صحت میں عوامی فلاحی اقدامات کی افادیت کا جائزہ لینے کے لیے ڈیٹا اینالیسز سینٹر قائم کرنے کے احکامات جاری کیے۔

انہوں نے مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں ادویات نہ ملنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 80 ارب روپے میڈیسن کیلیے دے رہے ہیں، اس کے باوجود مریضوں کو دواؤں کا نہ ملنا نا قابل فہم ہے۔ تاہم اب عوام کے پیسے اور وقت کا ضیاع نہیں ہوگا، نا اہل اور کام چوروں گھر جانا ہوگا۔

مزید خبریں