اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) جگر پر چربی چڑھنے کا مرض ایک دائمی عارضہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے۔
عام طور پر اس بیماری کے لیے نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور یہ جگر کے امراض کی عام ترین قسم ہے۔
اس بیماری کے دوران جگر بہت زیادہ مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج نہ ہو تو اس کے افعال تھم جاتے ہیں۔
جگر کی اس بیماری کے نتیجے میں میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
عام طور پر اس کے علاج کا آغاز جسمانی وزن میں کمی لانے سے ہوتا ہے۔
جسمانی وزن میں کمی لانا آسان نہیں ہوتا مگر چند عادات سے ایسا ممکن ہوسکتا ہے اور جگر کو صحت مند رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
غذائی اجزا سے بھرپور غذا کا استعمال
ویسے تو بیشتر افراد جسمانی وزن میں کمی کے لیے غذا کی مقدار میں کمی لاتے ہیں مگر اس سے جسم مختلف غذائی اجزا سے محروم ہونے لگتا ہے۔
جسمانی وزن میں کمی اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: کالی، سبز یا دودھ والی چائے: انسانی صحت کیلئے کونسی مفید؟
سالم اناج، پھلوں، سبزیوں، چکنائی سے پاک گوشت، کم چکنائی والی دودھ سے بنی مصنوعات، انڈے، مرغی اور مچھلی کا گوشت، پھلیاں اور گریاں جیسی غذاؤں کا استعمال جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح دائمی امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
زیادہ پروٹین والی غذائی اشیا کا انتخاب کریں
جسمانی مسلز کو بنانے میں پروٹین کا اہم کردار ادا ہوتا ہے جبکہ یہ غذائی جز انسولین کی حساسیت کو بھی بڑھتا ہے جس سے بھی جسمانی چربی میں کمی آتی ہے۔
پروٹین سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے پیٹ بھرنے کا احساس زیادہ وقت تک برقرار رہتا ہے جس سے بھی جسمانی وزن میں کمی لانا آسان ہو جاتا ہے جبکہ ان سے جسمانی وزن کو طویل المعیاد بنیادوں پر مستحکم رکھنا بھی ممکن ہوتا ہے۔
گریاں، سبزیوں، انڈوں اور مچھلی جیسی غذاؤں میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔
فائبر کا زیادہ استعمال کریں
فائبر ایسا غذائی جز ہے جو صحت کو متعدد طریقوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔
فائبر کے استعمال سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دیر تک برقرار رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پھلوں، سبزیوں، پھلیوں، گریوں اور سالم اناج میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ غذائیں مختلف وٹامنز، منرلز، اینٹی آکسائیڈنٹس اور قدرتی مرکبات سے بھی بھرپور ہوتی ہیں۔
اس سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔
پانی کی مناسب مقدار کا استعمال
پانی سے جسمانی درجہ حرارت کنٹرول میں رہتا ہے، بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے، غذائی اجزا اور آکسیجن جسمانی خلیات تک پہنچتے ہیں اور گردوں کے افعال کو درست رکھنا ممکن ہوتا ہے۔
میٹھے مشروبات کی جگہ پانی کو ترجیح دینے سے دن بھر میں استعمال کی جانے والی کیلوریز کی مقدار میں کمی آتی ہے جبکہ بتدریج جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہر بار کھانے سے قبل ایک سے 2 گلاس پانی پینے سے غذا کی کم مقدار کھانے میں مدد ملتی ہے جس سے بھی جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
طبی ماہرین کی جانب سے روزانہ کم از کم 6 سے 8 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاہم موسمی حالات اور جسمانی مشقت کو مدنظر رکھ کر اس مقدار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
نیند کی اچھی عادات اپنائیں
نیند کے دوران ہمارا جسم اپنی مرمت کرتا ہے اور جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مناسب اور معیاری نیند سے جسمانی وزن اور جسمانی چربی میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔
تحقیق کے مطابق نیند کی کمی سے تناؤ کی سطح بڑھانے والے ہارمونز کی تعداد بڑھتی ہے جس سے جسمانی وزن میں کمی لانا مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 26 سے 64 سال کی عمر کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
اچھی نیند کے لیے سونے سے قبل کیفین کے استعمال سے گریز کریں جبکہ نیند کے وقت سے ایک سے 2 گھنٹے پہلے ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال نہ کریں۔
روزانہ ایک ہی وقت سونے اور بیدار ہونے کو معمول بنانے سے جسمانی گھڑی کو ریگولیٹ کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
میٹھے کی جگہ پھلوں کو دیں
چینی سے بنی اشیا کے استعمال سے جسم میں انسولین کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔
انسولین کی سطح میں اضافے سے جگر میں چربی بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں پھلوں میں ایسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو جگر میں جمع ہونے والی چربی کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔
پھل فائبر کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہیں جس کے فوائد کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔
رات کے کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی
جسمانی سرگرمیاں جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
چہل قدمی ایسی آسان جسمانی سرگرمی ہے جسے کوئی بھی فرد آسانی سے اپنا سکتا ہے۔
رات کو کھانے کے بعد چہل قدمی کو معمول بنانے سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے، بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
کافی سے مدد لیں
کافی کا استعمال بھی جگر کی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔
جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کے شکار افراد اگر روزانہ 3 سے 4 کپ کافی پیتے ہیں، تو اس مرض کی سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
یہ گرم مشروب جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔











