اتوار,  31  اگست 2025ء
حالیہ مون سون بارشوں کے بعد وفاقی دارالحکومت اور مضافاتی علاقوں میں ڈینگی مریضوں کی تعداد 144 تک پہنچ گئی

اسلام آباد(منصور ظفر)حالیہ مون سون کی بارشوں کے باعث وفاقی دارالحکومت اور ملحقہ علاقوں میں ڈینگی کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔کشمیر اور مری سمیت دیگر اضلاع سے بھی ڈینگی لاروا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اسلام آباد کے علاقہ بھارہ کہو میں سب سے زیادہ متاثرہ مریض سامنے آ رہے ہیں۔ڈینگی کے حوالے سے آگاہی مہم اور واک کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سیدہ راشدہ بتول نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں اب تک ڈینگی کے 144 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 9 نئے کیسز رجسٹر ہوئے۔ اسپتالوں میں رپورٹ ہونے والے مریضوں کی تفصیلات کے مطابق راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال میں 51، بھارہ کہو اکبر نیازی ہسپتال میں 28، پولی کلینک میں 14، پمز میں 12، راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال میں 11، بینظیر بھٹو اسپتال میں 11 جبکہ دیگر نجی ہسپتالوں میں بھی مریضوں کا علاج جاری ہے۔مزیدڈاکٹر سیدہ راشدہ بتول کے مطابق مریضوں میں 69 فیصد مرد اور 31 فیصد خواتین شامل ہیں، جن میں زیادہ تر مریضوں کی عمر 20 سے 39 سال اور 40 سے 51 سال کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارہ کہو میں زیادہ تر کیسز مری اور کشمیر سے آنے والے رہائشیوں میں رپورٹ ہوئے ہیں، مری میں 77 اور بھارہ کہو میں 68 کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔اسلام آباد میں ڈینگی کے خلاف تین سو سے زائد ٹیمیں کام کر رہی ہیں جو مختلف یوسیز میں گھر گھر جا کر ان ڈور اور آؤٹ ڈور سپرے کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر اسپتالوں میں بیڈز، ویکسین، ادویات اور دیگر سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی مریض کو بروقت علاج میسر ہو سکے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر نے بھی ڈینگی مہم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں آگاہی واکس، محلہ سطح پر مہمات اور تاجر برادری سمیت عوام میں شعور اجاگر کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی مچھر زیادہ تر ایسے مقامات پر افزائش پاتا ہے جہاں پانی رکا ہوا ہو، جیسے کہ:

(1)چھتوں اور پودوں میں رکا پانی(2)سڑکوں اور گلیوں میں ٹھہرا پانی(3)کھلے برتن، مٹکے، ڈرم اور کنستر(4)زیر زمین کھلے ٹینک(5)استعمال شدہ ربڑ کے ٹائر اور گھروں میں کاٹھ کباڑ(6)بڑے درختوں کے سوراخوں میں بارش کا پانی._انہوں نے بتایا کہ شہری ہفتے میں کم از کم دو سے تین بار گھروں، دفاتر اور دکانوں میں مچھر مار اسپرے کریں، شام کے وقت باغیچوں میں جانے سے قبل بچوں کے جسم پر مچھر بھگاؤ لوشن لگائیں، روم کولر اور دیگر برتنوں سے پانی فوری خارج کریں، پوری آستین کے کپڑے پہنیں اور مچھر دانی کا استعمال کریں۔(ڈینگی بخار کی علامات)

ماہرین کے مطابق ڈینگی بخار ایک شدید فلو جیسی بیماری ہے جس کی علامات میں،تیز بخار،جسم میں درد اور جوڑوں کا شدید درد،بھوک نہ لگنا،آنکھوں کے پیچھے درد،جسم پر دھبے نمودار ہونا،سانس لینے میں دشواری،رنگت پیلی پڑ جانا،پیٹ میں درد اور بے ہوشی کی کیفیت شامل ہیں۔مریضوں کے لیے احتیاطی ہدایاتڈاکٹر مظہر نے بتایا کہ مریضوں کو زیادہ مقدار میں پانی، جوس، سوپ اور دودھ دیا جائے، پیراسیٹامول دن میں چار مرتبہ سے زیادہ نہ دی جائے، جبکہ ایسپرین اور بروفن کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام اور گھر کے افراد کی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کی تشخیص اور مکمل علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: ڈینگی سے بچاؤ کے لیے سی ڈی اے کی بھرپور کارروائیاں، نیشنل پریس کلب میں اسپرے کیا گیا

مزید خبریں