هفته,  17 اکتوبر 2026ء
 ایک دل دہلا دینے والا موضوع
ایک عبرت ناک انجام /جس سے انسان بے خبر ہے

سید شہریار احمد

ایڈوکیٹ کورٹایڈوکیٹ ہائی کورٹ

ایک دل دہلا دینے والا موضوع

سنا کرتے تھے کہ کسی زمانے میں عورت اپنی عزت کی خاطر جان دے دیا کرتی تھی اور آج کل ایک جوڑا سوٹ اور پزا کی خاطر عزت دے دیا کرتی ہیں۔

ممکن ہے آپ کو میری یہ بیہودہ باتیں پسند نہ آئیں لیکن مجھے یہ آج کہنے دیجیے، اگر میں نے اس موضوع پر آج بات کر لی تو دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں کہ یہ بات تمام لڑکیوں پر لاگو نہیں ہوتی بلکہ اس طبقے کے چند لوگوں کی وجہ سے وسیع پیمانے پر بدنامی مول لے لی جاتی ہے۔

اب میں اپنی بات کا اغاز کرتا ہوں کیونکہ یہ بہت ہی تشویش ناک صورتحال کی طرف توجہ دلانے والا موضوع ہے ،خاص طور پر ایسے محنت کشوں کے لیے جو شادی کروا کر اپنی منکوحہ کو یہیں چھوڑ جاتےہیں، اس کے علاوہ یہ شادی شدہ لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

میں کافی دنوں کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ بھی میرے دوست کے اصرار پر اور مجھے ایسی باتیں کرتے ہوئے کوئی خوشی بھی محسوس نہیں ہو رہی ۔

بہرحال جو بھی ہے جیسا بھی ہے عرض کئے دیتا ہوں آپ بھی سن لیجئے۔

 

اس وقت سماجی، ازدواجی اور خاص طور پر جنسی رویے، ہمیں یورپی معاشروں سے بھی کہیں بہت دور لے جانے والے ہیں۔

اگر میں پاکستان سے باہر کہیں رہائش پذیر ہوتا تو کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کر پاتا کیونکہ بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن پر میں اپنے دل کی بات کرنا چاہتا ہوں، جیسے جنسیات کا موضوع، مذہبیت ، خدا کے حضور میں مکالمات وغیرہ لیکن ابھی میں کچھ اور جینا چاہتا ہوں اور وہ بھی کھلی فضاؤں میں، نہ کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے۔

بس انہی خدشات کے بنا پر اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہوں۔

آج میں جو بات کہنے جا رہا ہوں وہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے قابل توجہ ہے۔ جنسی بے راہ روی تو ہر دور میں رہی ہے ،جب ٹیلی فون کے زمانے نہیں ہوا کرتے تھے تو پیغام رسانی کے لیے یا تو کوئی انسانی ذریعہ یا پھر چٹھیاں کام آیا کرتی تھیں۔

عیاشی کے اڈے ،کھیتوں کے پیچھے اپنا راستہ بنا لیا کرتے تھے بلکہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ان مکروہ افعال کے مرتکب افراد، شہروں کی نسبت ،دیہات اور گاؤں میں زیادہ پائے جاتے ہیں

لیکن اب ٹیلی فون اور گیسٹ ہاؤسز کی ایجاد ہوئی

توجسمانی عیاشی کے زیادہ موقع مہیا ہو گئے ،

یہاں تک بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ جنسی لذت حاصل کرنے کی خواہش انسان کو دنیا اور آخرت سب بھلا دیتی ہے لیکن جس چیز کی طرف میں توجہ دلا رہا ہوں وہ جنسی عیاشیوں میں بہت قریبی رشتوں کا در آنا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ہم تین لوگ کھانے کے دوران دوستیوں اور ناجائز تعلقات پر گفتگو کر رہے تھے جہاں مجھے بتایا گیا کہ ہم تینوں میں سے ایک، گزشتہ 14 سال سے ماں اور بیٹی سے بغیر نکاح کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہے۔

وہ بتا رہا تھا جس خاتون سے میرا تعلق تھا وہ 49 برس کی ہو گئی ہے اور اس کی بیٹی 23 سال کی۔

پہلے اس کی ماں سے معاشقہ کرتا رہا اور جب اس کی بیٹی 16 سال کی ہو تو اس پر بھی ہاتھ ڈال دیا۔

اب چونکہ یہ شخص خاتون کا کزن تھا اور اس کے گھر آنا جانا رہتا تھا اور اس کا خاوند ملک سے باہر نوکری کر رہا تھا اور اس کا اپنے ہی گھر آنا جانا بہت کم تھا

ویسے تو آپ سب لوگ دیکھتے ہیں ہمارے ڈراموں میں ہماری نوجوان نسل کو انسانی رشتوں سے کتنا بیگانہ کر دیا گیا ہے جس کی مکمل ذمہ داری ہم ٹی وی کی سلطانہ صدیقی اور جیو کے میر شکیل الرحمن کے چینلز پر ہے۔

جو ڈرامے چل رہے ہیں وہ انسانی رشتوں کے منہ پر تمانچہ ہیں اور نوجوان نسل کو ڈرامائی کرداروں میں اپنے کزنوں سے چکر چلانے، سسر کو بہو پر ڈورے ڈالتے ہوئے، ایک شخص کی دو جگہ محبتیں کروانے میں اور ایک عورت کو دو مردوں کو پسند کرنے کے مواقع ، طریقے مہیا کرتے ہیں

اور پھر ان سب کرداروں کو حقیقی زندگی میں دیکھنا ہو تو مخلوط نظام تعلیم کے کالجز اور یونیورسٹیوں کا چکر لگا لیں۔

کہا جاتا ہے کہ کسی طالبہ کو غیر محرم معلم تعلیم نہیں دے سکتا ،خواہ شاگردہ رابعہ بصری ہو اور استاد حسن بصری۔

آپ لوگ مائنڈ نہیں کیجئے گا،میرے ایک اور اینکر دوست ہیں جنہوں نے مجھے بتایا کہ عورت مرد کا بغیر شادی کی جسمانی رشتہ کوئی گناہ نہیں ہے کوئی پاپ نہیں ہے بلکہ یہ عین انسانی جبلت ہے،

وہ چونکہ بہت پڑھے لکھے انسان ہیں اور ان کے پاس ایسی حالت میں رہنے کے بہت سارے دلائل اور جواز موجود ہیں۔

اس کے علاوہ بھی انہوں نے مجھے بہت ساری مثالیں دیں جو کہ میں یہاں بیان نہیں کرنا چاہ رہا ۔

ان کا کہنا تھا اسی فطری جذبے کے تحت وہ اپنی سالی سے کئی بار مباشرت کر چکے تھے پھر اس کی شادی ہو گئی۔ یہ موقع بھی اس شخص کو اس کی بیوی نے ہی مہیا کیا تھا کیونکہ وہ اسے کہتی تھی کہ میری بہن کو کالج چھوڑ آئیں، گھر لے آئیں۔ جب ایک جوان لڑکی اپنے بہنوئی کے ساتھ موٹر سائیکل یا گاڑی میں بیٹھ جائے گی تو ایسا ہی نتیجہ لائے گی۔

میں نے تو اپنے دل کی بات کہہ دی۔ آپ سب پڑھنے والوں سے درخواست ہے یہ بات اور لوگوں تک بھی پہنچائیں۔

اپنے بہنوئی سے اور کزنوں سے اپنی بیوی کو اپنی غیر موجودگی میں ملنے کی اجازت نہ دیں کیونکہ یہ گناہ ثواب کی فلاسفی انسان کو غلط کام کرنے سے نہیں روکتی بس گناہ کا مزہ کرکرا کر دیتی ہے۔ باقی

کاروائیاں سبھی ڈال لیتے ہیں۔ میری اس بات پر توجہ دیں کہ اگر اس طرح کے ناجائز تعلقات کے 100 کیسز آپ نکال کر لاتے ہیں تو اس میں سے 20 واقعات ایسے ہوں گے جس میں کسی مرد نے بھابی سے تعلق جوڑا ہوگا جبکہ 80 فیصد جنسی مراسم ،عورت اپنے بہنوئی سے قائم کر لیتی ہے۔

خدا نہ کرے کہ کسی کے ساتھ ایسا ہو لیکن کیا کریں بھائی ایسا ہو جاتا ہے۔

میں نے ایک تجزیہ پیش کیا ہے لہذا شادی شدہ لوگ اپنی بیویوں کو اپنے قریبیوں کے قریب نہ ہونے دیں، احتیاط کریں اور سب سے بڑی بات یہ کہ میں نے اکثر دیکھا ہے جو مرد اپنی فیملی کو مالی معاملات میں خوش حال نہیں رکھ سکے ان کے بیوی بچوں کو اگر کوئی اور کھانے کھلائے گا تو وہ انہیں خرید لے گا

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھئی یہ سب کچھ میں اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتا ہوں، تو سنیں کیونکہ آپ کا یہ بھائی وکیل ہے اور ایسے بیسیوں کیسز میری نظروں سے گزر چکے ہیں اور پھر میں کتابیں پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا بھی شوقین واقعہ ہوا اس لیے ممکن ہے کہ میں آپ سے زیادہ جانتا ہوں۔

اور میرا تو اب یہی ماننا ہے کہ جب میرے پاس ڈھیروں دولت ہوگی تو کھانوں اور تحفوں سے جب چاہوں گا کسی عورت کو اس کی بیٹی سمیت خرید لوں گا۔

میں نے کوئی بیہودہ سی باتیں تو نہیں کر دیں؟

ممکن ہے میں نے ایسے مشاہدات کئے ہوں جو آپ کو پیش کر دیے ہیں ۔

ویسے جہاں تک میری رائے ہے یہ نماز ،روزہ، مذہب آپ کو ناجائز جنسی مراسم سے نہیں روکتے بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مدرسوں کے بچے اور مولوی جو خدا کے زیادہ قریب جانے جاتے ہیں وہ ایسے قبیح اعمال کے زیادہ مرتکب ہو جایا کرتے ہیں اور اگر کچھ کو صنف مخالف دستیاب نہ ہو تو کسی جانور سے بھی جسمانی مسرت حاصل کرنے سے نہیں چوکتے۔

کیا آپ کا دل دہلا یا آپ سب کچھ پہلے سے ہی جانتے تھے؟

تو مجھے یہ کہنے پر معاف کیجئے کہ میں سمجھ رہا تھا کہ آپ لوگ ان باتوں سے لاعلم تھے لیکن ابھی مجھے شک گزرا رہا ہے کہ

شاید آپ میں سے بھی کئی لوگ ایسے کاروائیاں ڈال چکے ہوں شاید۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،

مزید خبریں