جمعه,  10 اپریل 2026ء
دوآبہ نہر کنارے بھینسوں کے باڑے متعلقہ اتھارٹیز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

حافظ آباد(شوکت علی وٹو)سرکاری املاک، زمین پر قبضہ کس طرح ہوتا ہے اس کی زندہ مثال دوآبہ ہیڈ ساگر کی طرف جانے والے روڈ پر دیکھی جا سکتی ہے جہاں محکمہ ایریگیشن کی زمین پر جانوروں کی پختہ کھرلیاں بنائی گیں ہیں سرکاری کھال غائب ہو چکا ہے جہاں شفاف پانی بہتا تھا اب وہاں گندا بدبودار پانی بہہ رہا ہے متعلقہ محکمہ ایریگیشن لمبی تان کر سویا ہے دوسرے جانب ستھرا پنجاب کی نااہلی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے آہستہ آہستہ لوگ قبضہ کرنا شروع ہو جائیں گے. بھینسوں کو روڈ کنارے باندھ دیا جاتا ہے جو کسی وقت بھی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں بھینسوں کے گوبر نے گزرنے والوں کے لیے الگ مسائل پیدا کر رکھے ہیں جو مکھیوں مچھروں کی افزائش کی فیکٹریاں ہیں جس کی بدولت قریبی آبادی میں مچھروں کی بہتاب ہے.اور روڈ پر گزرنے والے موٹرسائیکل سواروں کے چہروں پر مچھر پڑتے ہیں محکمہ ایریگیشن سمیت ضلعی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی حافظ آباد کو فوری نوٹس لیتے ہوئے بھینسوں کو روڈ سے دور کرنے کی ضرورت ہے جبکہ محکمہ ایریگیشن جو سویا ہے بروقت اپنی زمین کو واگزار کروائے.

مزید خبریں