تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو غوش نصیحت بنوش ہے
ایک تنبیہی تحریر
اوپر پیش کردہ شعر کافی ثقیل ہے اور بہتوں کی سمجھ سے بالاتر بھی۔
لیکن ذیل میں دی گئی تحریر بڑی سادہ اور عام فہم الفاظ میں ہے تاکہ طبقہ نوجوانان کی مناسب انداز سے رہنمائی ہو سکے
لہذا یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ
(آپ عنوان پڑھ کر مضمون بھانپ لیا کرتے ہیں)
میرا یہ آرٹیکل خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے ے جو دوستیوں میں بڑے جذباتی، غریبوں کے ساتھ ہمدرد اور غیروں کے ساتھ انسانیت پرست ہو جاتے ہیں اور خاص طور پر وہ عشقیہ مزاج نوجوان ،جو صنف نازک سے بہت مرعوب ہو جایا کرتے ہیں اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی ذاتی اشیاء تک بیچ کر ان کی مانگیں پوری کرنے سے نہیں چوکتے۔
وہ یہ پڑھ لیں گے تو شاید کسی یکطرفہ نقصان سے بچ سکیں گے۔
میرے بڑے ہی پیارے اور اچھے دوست ہیں اور ہم ایک دوسرے کی دل سے عزت کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے کبھی شکایت بھی نہیں کی۔
دلوں کے حال تو اللہ بہتر جانتا ہے یا پھر میں اپنے دل کا حال جانتا ہوں اس لیے وثوق سے کہتا ہوں کہ مجھے وہ اچھے لگتے ہیں اور میرا دل کہتا ہے کہ وہ میری بھی دل سے عزت کرتے ہیں کیونکہ کبھی ہم نے کسی کی دل آزاری نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔
اور اپنے دل کا حال تو وہی بخوبی جانتے ہوں گے ۔
اب میں یہاں ان کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں شرمندہ ہوں گا یا پھر انہیں شرمندگی ہو گی۔
پچھلے روز وہ مجھے قائل کر رہے تھے کہ اگر میں اپنا سٹوڈیو اور اپنا سیٹ اپ بنا لوں ۔
اچھے مہنگے کیمرے لے لوں اور جس دفتر میں میں آج کل بیٹھتا ہوں اس کے کارنر پہ یوٹیوب چینل بنا لیں ہم دونوں مل کے تو کام بہت اچھا چلے گا۔
ہم سلیبریٹیز کواپنے آفس میں دعوت دیا کریں گے اور جب چینل چل نکلے گا تو اسی سے پیسہ بھی نکلے گا۔
آفر بڑی پرکشش تھی اور بات ہے بھی سہی کیونکہ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ مشہور ہو اور شہرت کے ساتھ اس کے پاس پیسے بھی ہوں تو مزہ دوبالا ہو جائے۔
یہ بات ہم دونوں کے درمیان دو دفعہ پہلے بھی ہو چکی تھی لیکن اس دھندے میں میرا لاکھوں کا خرچہ متوقع تھا ۔ مجھے ان کی نیت پہ کوئی شبہ نہیں ہے بس ذہن میں الٹے سیدھے خیالات آتے رہے
گزشتہ روز میں ان کی باتیں سنتے ہوئے کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
مجھے یاد آیا کہ 1996 میں جب میں نے پاکستان ٹیلی ویژن پہ خبریں پڑھنا شروع کیں تو ایک اسسٹنٹ تھے سعد اللہ ،ان سے اچھی دوستی ہو گئی، ایک پروڈکشن ہاؤس بنانے کا فیصلہ ہو گیا ،سپر مارکیٹ میں دفتر دیکھ لیا گیا، سعد اللہ کے اس وعدے پر کہ آدھی پیمنٹ وہ مجھے چند روز بعد کر دیں گے میں نے دو ماہ کی ایڈوانس اور ایک مہینے کی سیکیورٹی مالک کے حوالے کر دی۔
پھر میں وہاں جاتا رہا لیکن سعد اللہ ایک روز بھی دفتر میں پیش نہ ہوئےاور میں وہاں کچھ مکھیاں مار کے واپس چلا جاتا جبکہ سعد اللہ ٹیلی ویژن میں جی رہا تھا اور اب بھی وہیں جیتا ہے۔
ماشاءاللہ بہت بڑا افسر بن چکا ہے۔ اللہ اس کو اور ترقی دے۔
اب اس بات کو لگ بھگ پین 30 سال ہو گئے ہیں لیکن آج تک اس کے منہ سے معذرت کا لفظ نہیں نکلا ،نہ ہی مجھے پیمنٹ دینے کے حوالے سے کبھی بات ہوئی، اور میں جب بھی اسے ملتا ہوں تو مجھے صرف یہی ایک واقعہ یاد آتا ہے جسے وہ شاید مکمل طور پر بھول چکا ہے۔
اب میں اپنے دماغ کا کیا کروں؟
پھر مجھے یاد آیا کہ دو ہزارچار یا پانچ کی بات ہے ہم لوگ ایک ٹرپ پر انڈیا گئے۔
ایک جوڑے سے جو یہاں سے وہاں ہمارے ساتھ گیا تھا اچھی سلام دعا ہو گئی ۔
انڈیا سے واپسی پر ہم نے فیصلہ کیا کہ لڑکی چونکہ انٹیریئر ڈیزائننگ کی ماہر ہے اور لڑکا بہت اچھا فوٹوگرافر، تو ہم تینوں کی باہمی رضامندی سے میلوڈی ، اسلام آباد ہوٹل کے سامنے والی گلی میں گھر کرائے پر لے لیا گیا اور میں نے اپنی اچھائی اور انسانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فورا پیمنٹ کر دی اسی طرح جیسے کہ رواج ہے دو ماہ کا ایڈوانس اور ایک ماہ کی سکیورٹی جبکہ یہ پیمنٹ تین حصوں میں تقسیم ہونا تھی۔
ان دونوں کے پیشگی وعدے پر میں نے بعد میں ان سے رقم لینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
کچھ دن تک ان لوگوں کی کوئی خبر نہ ملی ، لڑکے کا کانٹیکٹ نمبر بدل چکا تھا۔
لڑکی سے میں نے اس کے دفتر پہنچ کر پوچھا تو کہنے لگی شہریار صاحب میری تو شادی طے ہو گئی ہے تو میں تو نہ آ سکوں گی اور لڑکے نے میریٹ میں جاب کر لی ہے اور فون نمبر چینج کر لیا ہے ۔
تو اب آپ حیران ہوتے ہوں گےمیری سادگی پہ اور آپ کو حیران ہونا بھی چاہیے لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں
بھائی، اگر آپ کو بھری جوانی میں ایک نوجوان اور خوبصورت دوشیزہ کے ساتھ بزنس کرنے کا موقع ملے تو تب آپ کیا کریں گے؟
اور اب یہ اس سے پرانا واقعہ ہے ۔ کئی سال پہلے کا ذکر ہے راقم ابھی زیر تعلیم تھا۔ ایم اے میں پڑھ رہا تھا۔
ایک صاحب جو ہم سب کے جاننے والے تھے انہوں نے مجھے گھیر لیا۔
کہنے لگا اسلام آباد کے کالجز میں لڑکیوں کے یونیفارم بنانے ہیں اور وہاں پہ ایک سٹال لگانا ہے تو اس میں ہم دونوں انویسٹمنٹ کرتے ہیں ۔اس کام میں بہت پیسہ ہے اور میری چار کالجز کی پرنسپلز سے بات بھی ہو چکی ہے۔
یہ میرا پہلا بزنس تھا اور اس وقت میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پہ خبریں پڑھتا تھا اورخرچہ کوئی تھا نہیں، بیوی بچے نہ تھے لہذا اس کو فل پیمنٹ کر دی جو اس وقت کاروبار کے لیے چاہیے تھے۔
اس کے بعد وہ چلا گیا بیرون ملک اور میں ٹیلرز کے اور کالج کے دھکے کھانے کے بعد توبہ تائب ہو گیا اور جہاں جہاں جو جو سامان پڑا تھا وہاں انتظامیہ سے جھگڑے بھی ہوتے رہے ۔ میں انہیں بڑا جذباتی جملہ کہ( یہ یونیفارم غریب بچیوں کو دے دیجیے گا) کہہ کر واپس چلا آیا۔
انہیں میرے اس جملے کے ساتھ درجنوں یونیفارم بھی فری میں مل گئے اور مالی اور جذباتی نقصان کس کا ہوا ؟
میرا ۔
اچھا ٹھہریے
ذرا رکیے اور سنتے جائیے۔ میرے دوست، معروف شاعر، محقق !ادیب، تجزیہ کار ہیں ان سے مشترکہ بزنس پر بات ہوئی اور مجھے خاص لوکیشنز بتائی گئیں کہ ان لوکیشنز پہ کوئی دفتر دیکھ لیں، ہم دونوں اس کو رن کریں گے ۔
میں 15 /20 دن ،ڈیلرز کے ساتھ بقلم خود گھومتا پھرتا رہا۔
2 ہفتوں کے بعد ان کو میں نے بتایا کہ بڑی محنت کے بعد یہ تین جگہیں اچھی ملی ہیں۔
چلیں آئیں آ کے دیکھ لیں تو انہوں نے کہا کہ شہریار میں نے تو ایک اور بندے کے ساتھ کام شروع کر لیا ہے۔
اس وقت مجھے بڑی کوفت ہوئی کہ اگر یہ مجھے پہلے بتا دیتے تو میں اتنے دن یہ خجل خوار ہونے کی ریاضت نہ کرتا۔
بہرحال میں نے پہلی دفعہ اپنا جذباتی پن اپنے اندر ہی رکھا۔
کچھ عرصے بعد انہوں نے مجھے خود بتایا کہ جس دوست کے ساتھ انہوں نے پارٹنرشپ کی تھی اس نے بہت نقصان پہنچایا ہے تب جا کر مجھے تھوڑا دلی اطمینان نصیب ہوا ۔
کچھ اور سنا دوں آپ کو، کیا خیال ہے؟
کہیں میں آپ کو بور تو نہیں کر رہا ؟
چلیں اب بات ختم کرتے ہیں۔
تو اہے نوجوانوں کچھ سیکھا تم لوگوں نے؟
کسی کے ساتھ بھی کچھ بھی بزنس کرتے وقت، پیمنٹ پہلے ٹیبل پہ رکھوا لینا
جب وہ دوست مجھے کنونس کر رہے تھے تب بجلی کی سی تیزی کے ساتھ یہ 30 سال کے کچھ واقعات میرے دماغ میں کوندے،
میری دماغ کو روشن کیا اور نکل گئے،
ساتھ ہی میں بڑے ادب سے دوست سے مخاطب ہوا کہ راجہ صاحب آپ اپنے گھر میں ایک کارنر پہ سٹوڈیو بنا لیں،
اچھے کیمرے لگا لیجئے جیسا کہ آپ مجھے مشورہ دے رہے ہیں
اور جب بھی آپ مجھے حکم کریں گے میں تین تین، چار چار گھنٹے کے لیے آ کے آپ کے پاس فری آف کاسٹ پروگرام کر دیا کروں گا اور آرٹسٹ بھی میں خود لاؤں گا۔
دیکھا کیسا تیر پھینکا میں نے۔
آپ کو پسند آیا ؟
اگر وہ سنجیدہ ہوں گے تو کام کر لیں گے، نہیں تو اس کا مطلب ہے وہ مجھے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ کی کوشش کر رہے تھے اور اس کی بھی کوئی امید اور گارنٹی نہیں تھی کہ بعد میں وہ میرے ساتھ آگے چل بھی سکیں گے یا نہیں یا کوئی مجبوری آڑے آ جائے گی۔
جی ٹھیک ہے نا راجہ طاہر صاحب۔
میں نے آپ کا نام بھی نہیں لیا اور اپنی بات بھی کہہ دی ۔
اب جا کر زندگی میں کئی باتوں کی سمجھ آئی ہے
ہائے ری قسمت
ہائے ری ہماری بد نصیبی، جب ہماری جوانی تھی تو عقل نہ تھی
اور اب جب عقل آئی ہے تو جوانی منہ موڑ چکی ہے
کر لیاچاق گریباں
کبھی دامن کو سیا











