جمعرات,  19 مارچ 2026ء
برطانیہ: ٹک ٹاک انفلوئنسر اور والدہ کو دوہرے قتل پر عمر قید کی سزا

لیسٹر(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں ہائی اسپیڈ تعاقب کے دوران دو نوجوانوں کے قتل کے مقدمے میں ٹک ٹاک انفلوئنسر ماہک بخاری اور اس کی والدہ انسرین بخاری کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 21 سالہ ثاقب حسین اور محمد ہاشم اعجازالدین فروری 2022 میں لیسٹر کے قریب A46 روڈ پر اس وقت جاں بحق ہوئے جب ان کی گاڑی کو تیز رفتار تعاقب کے دوران جان بوجھ کر سڑک سے باہر نکال دیا گیا۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی تباہ ہو کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور آگ لگ گئی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔ واقعے کے دوران ثاقب حسین نے اپنے آخری لمحات میں ایمرجنسی نمبر 999 پر کال کر کے اطلاع دی کہ ان کی گاڑی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری جا رہی ہے۔

اے این ایف کا ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 11 ملزمان گرفتار

استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ ماضی کے ذاتی تعلقات اور تنازع کا نتیجہ تھا۔ متاثرہ نوجوانوں کو صلح کے بہانے لیسٹر کے ایک ٹیسکو کار پارک میں بلایا گیا، جہاں سے ان کا تعاقب کیا گیا۔ بعد ازاں مرکزی سڑک پر تیز رفتار تعاقب کے دوران ان کی گاڑی کو ٹکر مار کر سڑک سے باہر نکال دیا گیا۔

لیسٹر کراؤن کورٹ نے ماہک بخاری کو کم از کم 31 سال اور انسرین بخاری کو کم از کم 26 سال قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی۔

اس مقدمے میں دیگر ملزمان کو بھی سزائیں سنائی گئیں، جن میں ریخان کاروان اور رئیس جمال کو قتل کا مجرم قرار دے کر عمر قید جبکہ دیگر تین ملزمان کو غیر ارادی قتل کے جرم میں 11 سے 15 سال تک قید کی سزا دی گئی۔

عدالت کے مطابق یہ ایک منظم کارروائی تھی جس میں متعدد افراد اور گاڑیاں شامل تھیں۔

یہ افسوسناک واقعہ ایک ملاقات سے شروع ہو کر ہولناک انجام پر ختم ہوا، جس میں دو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ کئی افراد طویل عرصے کے لیے جیل پہنچ گئے۔

مزید خبریں